Showing posts with label Articles. Show all posts
Showing posts with label Articles. Show all posts
Tuesday, June 15, 2010
International Relation
عہدِ نبوی ﷺ کے بین الاقوامی تعلقات
بحوالہ: ڈاکٹر حمید اللہ
پیغمبراسلامﷺ نے صر ف دفاع کی خاطر اور وہ بھی بڑے تامل کے ساتھ ہتھیار اٹھائے تھے۔ جب اسلام کے پرانے دشمنوں کی احمقانہ معاندت ختم ہوگئی تو آپﷺ کا صرف ایک ہی کام اور ایک ہی مقصد رہ گیا کہ عرب اور دیگرممالک میں پرامن طورپر اسلام کی تبلیغ کی جائے۔
حدیبیہ سے واپسی کے بعد جب آپﷺ اہل مکہ سے پُرامن بقائے باہمی پر مفاہمت میں کامیاب رہے۔ آپﷺنے بیرونی ممالک میں قاصد روانہ کرنا شروع کردیے۔ 7ہجری میں انھوں نے بازنطینی فرمانروا، والیِ مصر، شاہِ حبشہ اور شاہِ ایران کے نام مراسلے ارسال کیے جن میں ان فرمانرواؤں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ان ممالک کی طرف بھیجنے کے لیے نبیﷺ نے ایسے افراد کا انتخاب کیا جو پہلے ہی ان ممالک کا دورہ کرچکے تھے اور وہاں کی زبان کسی حد سمجھ سکتے تھے۔
رسول اﷲ ﷺ نے جن فرمانرواؤں کو خطوط ارسال کیے ان میں ہرقل معمولی گھرانے کا فردتھاجو قسطنطنیہ میں ایک فوجی انقلاب کے نتیجہ میں برسرِ اقتدار آیاتھا۔ اس نے انہی دنوں ایرانیوں پر زبردست فتح حاصل کی تھی اور انہیں اپنی مملکت کے ان حصوں سے ماربھگایاتھا جس پر انہوں نے قبضہ کررکھاتھا۔ فطری طورپر شہنشاہ ہرقل، عرب کے کسی باشندے کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہوسکتاتھا جبکہ عرب کا ایک حصہ خود اس کی سلطنت کی ایک نو آبادی تھا۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے ہرقل نے اپنے ایک سردار کو محض اس لیے پھانسی دے دی تھی کہ اس نے اسلام قبول کرلیاتھا۔ اس نے مسلم سفیر کو قتل کرنے والے گورنر کو پناہ دی جس نے بین الاقوامی قوانین اور اصول وقواعد کی صریح خلاف ورزی کی تھی۔ جب پیغمبر نے سفیر کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے فوجی مہم موتہ بھیجی تو ہرقل نے ایک زبردست فوج کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔اس کا رویّہ ایک بیاصول ظالم اورجابر بادشاہ کا تھا۔
ایرانیوں اور بازنطینیوں دونوں نے عرب کے اندر اور گرد ونواح میں اپنی نوآبادیاں قائم کررکھی تھیں۔ انہوں نے عربوں کو غلام بناکررکھاہواتھااور وہ ان سے دوسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک کرتے تھے۔وہ عربوں کو کمتر نسل تصور کرتے تھے۔ رسول اﷲﷺ نے براہِ راست یونانیوں(رومیوں) سے رابطہ پیداکرنے سے قبل ان عرب سرداروں سے رابطہ کا فیصلہ کیا۔
سینٹ پال کے دور میں عرب نا صرف دور دور تک آباد تھے بلکہ انہوں نے دمشق کے شمالی علاقہ میں چھوٹی موٹی سرداریاں بھی قائم کررکھی تھیں۔ اس وقت اس علاقے کا حکمران حارث (ارٹیس) نامی ایک شخص تھا۔ رسول اﷲﷺ کے دور میں اس علاقے میں عرب قبیلہ غسان آباد تھا جس نے عیسائیت قبول کرلی تھی۔ رسول اﷲﷺ نے اس قبیلہ کے مختلف سرداروں کے نام بھی خط بھجوائے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔
نبیﷺ نے پہلا خط حارث ابن شمیر کولکھا۔مگر اس نے رسول اﷲ ﷺ کی دعوت مسترد کردی۔جلدہی اس کا انتقال ہوگیا یہ 8ہجری کا واقعہ ہے۔ پھر اس کے جانشیین جبلہ الایہم کو بھی اسی طرح کاپیغام بھیجاگیا۔ اس کے قبولِاسلام کے بارے میں متضاد روایات ملتی ہیں۔ رسولِاﷲﷺ نے حاکم بصرہ کے نام بھی اسلام کا دعوت نامہ ارسال کیا۔ یہ خط حارث ابن عمیر الازدی لیکر گئے مگر عیسائی سردار شرجیل ابن عمر و الغسانی نے رسول اﷲ ﷺ کے سفیر کو گرفتار کرکے قتل کردیا۔ عیسائی سردار کایہ فعل تمام بینالاقوامی اصول وقواعد کی کھلی خلاف ورزی تھا۔ رسول اﷲ ﷺ نے سفیر کے قتل کا تاوان طلب کیا اور مطالبہ کیا کہ مجرم کو سزادی جائے۔ لیکن شہنشاہ ہرقل نے مسلمانوں کی چھو ٹی سی مہم کے مقابلہ میں ایک لاکھ سپاہ پر مشتمل وہ فوج روانہ کردی جو اس نے ایران کی مہم کے لئے بھرتی کی تھی اور ابھی اسے فارغ نہیں کیا گیا تھا۔رسول اﷲﷺ نے اس مہم کے لئے تین ہزار افراد پر مشتمل فوج خشکی کے راستے اور کچھ کمک سمندر کے راستے بھجوائی تھی ، مسلم فوج کا ہرقل کی فوج سے موتہ کے مقام پر مقابلہ ہوا،مسلمان دشمن کی تعداد سے خائف نہیں تھے،جنگ شروع ہوئی مسلمانوں کے دوسینئر جرنیل ،کمانڈر انچیف ،زید بن حارثہؓ ( رسول اﷲﷺ کے لے پالک صاحبزادے) اور ان کے نائب جعفر الطیارؓ ابن ابو طالب(رسول اﷲﷺ کے عم زاد) شہید ہوگئے۔ اس کے بعدفوج نے خالد ابن ولید کو سپہسالار منتخب کیا۔ انہوں نے دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور اسلامی فوج کو بتدریج پیچھے ہٹالائے۔دشمن کو مسلم فوج کا تعاقب کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اسلامی فوج مدینہ میں وارد ہوئی جس کے بعد9ہجری میں رسول اﷲﷺ خود تیس ہزار افراد پر مشتمل فوج لیکر نکلے۔ راستے میں اسلامی فوج جس جگہ پڑاؤ ڈالتی، وہاں ایک مسجد تعمیر کردی جاتی۔آپﷺ نے پورے شمالی عرب اور جنوبی فلسطین پر مسلمانوں کی بالادستی قائم کرلی۔ اسلامی فوج نے دُومۃ الجندل ،مقنہ ، ایلہ ، جربا اور ازرُح پر قبضہ کرلیا۔ یہ تمام شہر باز نطینیوں نے خالی کردیے تھے۔ ان میں ایلہ کی بندرگاہ زبردست اہمیت کی حامل تھی۔ علاقہ کی عرب آبادی نے جوعیسائیت کوقبول کرچکی تھی، ظالم بازنطینیوں کے خلاف بغاوت کردی تھی، وہ روادارا ور اصول پرست مسلمانوں کے سائے میں زندگی بسر کرنے پر خوش تھے۔ ان علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ مستحکم ہوگیا اور اب رومی شہنشاہ ان میں مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔ تاہم ابھی اسلامی مملکت کی سرحدوں کی صورت حال مستحکم نہ تھی۔ چنانچہ ڈیڑھ سال بعد ایک اور فوجی مہم روانہ کی گئی۔ یہ فوج عین اس روز روانہ ہوئی جس روز رسولِاﷲﷺ کا وصال ہوا، اس فوج کو بھیجنے کا فیصلہ رسول اﷲﷺ نے کیا تھا۔ چنانچہ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکرؓ نے پیغمبرخداﷺ کا فیصلہ برقرار رکھا۔فوج کا کمانڈر اسامہؓ ا بن زید کومقرر کیا گیا۔اُسامہؓ کے والد حضرت زیدؓ جنگ موتہ میں اسلامی فوج کی کمان کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرچکے تھے۔ اس فوج نے اسلامی مملکت کی حدود کو مزید شمال میں وسعت دی اور جلدہی فلسطین مسلمانوں کے زیرِنگیں آگیا۔
عمان کے عرب گورنر کو بھی رسول اﷲ ﷺ نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور اس نے اسلام قبول کرلیا مگر ہر قل کے حکم سے اسے قتل کر دیاگیا۔
مصر، سلطنتِ بازنطین کا ایک حصہ تھا جب ایرانیوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے قبطیوں سے فیاضانہ سلوک کیا جو باز نطینی حکومت کے ’’مذہبی مظالم ‘‘ سے تنگ آچکے تھے۔ ایرانیوں نے قبطیوں میں سے ایک شخص کو ان کا حکمران بنادیا جسے مقوقس کا خطاب دیا گیا۔مقوقس کا لفظ ایرانی المخرج معلوم ہوتا ہے۔ ایرانیوں کو جب نینوا کے مقام پر ہرقل کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تو وہ مصر بھی خالی کرنے پرمجبور ہوگئے۔ غالباً یہی دور تھا جب رسول اﷲﷺ نے قبطیوں کے سردار کو خط لکھا اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ قبطی سردار نے رسول اﷲﷺ کے خط کا نہایت مودّبانہ جواب دیا، تاہم مقوقس کے قبولِاسلام کا مقصد حاصل نہ ہوسکا۔مقوقس نے اسلامی سفیر کو متعدد تحائف دیے۔ رسول اﷲﷺ نے مقوقس کو جو خط لکھا تھا اس کا اصل مسودہ اب تک محفوظ ہے اور ان دونوں استنبول (ترکی) کے مشہور میوزیم توپ کاپی میں موجود ہے۔
حبشہ کا علاقہ یمن کے قریب تھا ظہور اسلام سے بہت پہلے مکہ سے حبشہ کے نہایت قریبی اقتصادی تعلقات قائم تھے۔ کہا جاتاہے کہ یہودی حکمران ذُونواس نے عیسائیوں پر مذہبی اختلاف کی بنا پر اتنے مظالم کیے کہ حبشہ کے عیسائیوں نے یمن پر حملہ کردیا اور اس پر قبضہ کرلیا۔ لیکن فاتح عیسائیوں کے جرنیلوں کے درمیان حسد ورقابت کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے گلے۔ اس خُونریزی اور جنگ وجدل کے بعدابرہہ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے یمن کا گورنربن گیا۔ وہ مذہب کے معاملے میں بڑا کٹراور ہٹ دھرم تھا۔ یہ وہی ابرہہ ہے جس نے کعبۃ اﷲ کو ڈھانے کے لیے مکہ پرحملہ کیا تھا کیونکہ وہ کعبہ کوعرب میں عیسائیت کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصورکرتاتھا۔ حضوراکرم ﷺ نے مختلف حکمرانوں کوخط لکھے ان میں حبشہ کا شاہ نجاشی بھی شامل تھا۔ مسلمانوں سے نجاشی کے تعلقات اس خط سے بہت پہلے سے قائم تھے۔ حضورپاکﷺ کے اعلانِنبوتﷺ سے کوئی پانچ سال بعد مکہ میں چند اہل اسلام پر اتنے مظالم ڈھائے گئے کہ انہوں نے مادرِ وطن سے ہجرت کرکے سمندر پار کے ملک حبشہ میں پناہ لینے کافیصلہ کیا۔ اگلے سال اہل مکہ نے دو سفارتیں حبشہ بھیجیں تاکہ مسلمانوں کو حبشہ سے نکال کر اہل مکہ کے حوالے کیاجائے۔ مگردونوں سفارتیں ناکام رہیں۔ جب مکہ والوں کا دوسرا وفد حبشہ گیا تو رسول اﷲﷺ نے بھی اپنا ایک سفیر حبشہ بھیجا تاکہ اہل مکہ کی سازش کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس دورکی حبشہ کی تاریخ معلوم نہیں ہوسکی، جس کے باعث یہ قطعی انداہ نہیں ہوسکتاکہ حبشہ کے جس شاہِنجاشی نے مکی مسلمانوں کو پناہ دی اور دس سال بعد جس نجاشی نے اہل مکہ کے دوسرے وفد سے ملاقات کی تھی وہ ایک شخصیت تھی یا دو مختلف افراد تھے۔قیاس کیا جاتاہے کہ یہ ایک ہی شخصیت تھی اور پیغمبرِ اسلام ﷺ سے اس کے تعلقات نہایت دوستانہ تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اﷲﷺ نے اسے خط لکھا تھا جس میں اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔(نبیﷺ کے اس خط کا اصل مسودہ اس وقت دمشق میں موجود ہے۔)کہاجاتاہے کہ شاہ نجاشی نے اسلام قبول کرلیا تھا تاہم وہ اپنی رعایا کو قبول اسلام کی ترغیب نہیں دے سکا تھا۔ نجاشی کا قبول اسلام اس حقیقت سے بھی ثابت ہوتاہے کہ امام بخاریؒ کے مطابق نجاشی کی وفات کی خبر ملنے پر رسول اﷲﷺ نے مدینہ میں اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا تھا۔رسول اﷲﷺنے شاہ نجاشی کے جانشین کو بھی خط لکھا تاہم اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔مگر حبشہ کے بہت سے شہری مشرف بہ اسلام ہوئے جن میں شاہ نجاشی کا ایک بیٹا بھی شامل تھا۔ وہ بعد میں مدینہ آگیا اور رسول اﷲ ﷺ کے خاندان کے زیرِ کفالت فرد کی حیثیت سے یہیں سکونت اختیارکرلی۔
عرب میں حبشہ کے کئی شہری بھی ملتے ہیں۔ موذّنِرسول حضرت بلالؓ کو حبشی اسی بناپر کہا جاتاتھا کہ وہ حبشہ کے رہنے والے تھے۔
باز نطینی سلطنت کی طرح ایران نے بھی عرب میں نوآبادیاں قائم کررکھی تھیں۔ گو عربوں کے درمیان باہمی اختلافات تھے، وہ ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے مگر ان میں انا اور عزتِ نفس کا احساس بہت زیادہ تھا یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ بہترین وفادار حلیف ثابت ہوئے چنانچہ بنو غسان باز نطینیوں کے نہایت وفادار حلیف تھے۔ اسی طرح حیرہ (موجودہ کوفہ)کے لوگوں کے ایران سے تعلقات تھے اور وہ ایران کے حلیف تھے۔ ایک وقت تھا کہ حیرہ کے حکمرانوں نے اپنے اطوار سے ایران کے شاہی خاندان میں اتنا اعتماد پیدا کرلیا کہ ولی عہد شہزادہ بہرام گورکو بچپن میں مدائن کے شاہی محل میں رکھنے کے بجائے حیرہ بھیج دیاگیا تاکہ یہاں اسکی پرورش اور تربیت کی جاسکے۔ لیکن بعدکی نسلوں کے زمانے میں صورتِحال بالکل بدل گئی۔ایک شہنشاہ ایران نے خواہش ظاہر کی کہ والیِ حیرہ کی بیٹی شاہی حرم میں بھیجی جائے۔ مگر حیرہ کے گورنر نے انکار دیا۔چنانچہ شہنشاہ نے گورنرکومدائن طلب کیا جہاں اسے قتل کردیاگیا ۔اس پر عربوں نے حکومت ایران کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا۔شہنشاہ ایران نے عربوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا اور حیرہ پرفوج کشی کردی۔ عربوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور شاہی فوج کو جنوبی عراق میں ذوقار کے مقام پر تہس نہس کردیا۔ یہ واقعہ انہیں دنوں رونما ہو جب کفارمکہ اور مسلمانوں کے درمیان جنگِ بدر لڑی گئی۔ رسول اﷲﷺ ایران کے آں جہانی شہنشاہ نوشیرواں کی عادلانہ حکومت کے معترف تھے لیکن وہ ایرانیوں کی آتش پرستی اور زرتشت کی طرف سے مذہب کے نام پر روارکھی جانے والی بدعتوں کے سخت خلاف تھے۔ہمیں اس صدائے باز گشت قرآن حکیم کی سورۂ روم میں بھی سنائی دیتی ہے۔ پیغمبر اسلامﷺکی مدینہ کو ہجرت سے قبل ایرانیوں نے باز نطینی سلطنت پر حملہ کرکے شام، فلسطین اور مصر پر قبضہ کرلیاتھا۔قرآن میں کہا گیا ہے ’’رومی (بازنطینی)ہمسایہ ممالک میں شکست سے دوچار ہوئے مگر چند سالوں کے لیے اور وہی فاتح ہوں گے۔‘‘ عیسائیوں کو نسبتاً مسلمانوں کے قریب تصور کیا جاتاتھا اور زرتشتی (ایرانی) کفار مکہ کے ہم مشرب تصورہوتے تھے۔
7ہجری میں جب پیغمبر اسلامﷺ نے خسرو پرویز کو اسلام کی دعوت دی اور اسے خط لکھا......اس خط کا اصل مسودہ ہم تک پہنچا ہے......یہ کہنامشکل ہے کہ آیا رسول اﷲﷺ کا یہ خط خسرو پرویز نے وصول کیاتھا، یا اس کے کسی جانشین کوملاتھا۔ کیونکہ بالکل انہیں دنوں ایرانیوں کو نینواکے مقام پر مکمل تباہی کا سامنا کرناپڑاتھا۔ شہنشاہِ ایران کو خوداس کے بیٹے نے قتل کردیا تھا اور پایۂتخت مدائن(تیسفُون)میں وارثانِ تخت جلد جلد بدل رہے تھے۔بہرحال! اسلامی سفیر سے نہایت توہین آمیز سلوک کیا گیا اور اسے بے عزت کرکے ایرانی دربار سے نکال دیا گیا۔ ترمذی کی ایک حدیث کے مطابق ایران کی ایک ملکہ نے مدینہ میں ایک سفارت بھیجی۔ ایرانی سفیر تحفے لیکر رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کا مقصد سابق شہنشاہ کی طرف سے مسلمانوں کو پہنچائی جانے والی اذیّت کا مداواکرناتھا۔ایران کی یہ ملکہ غالباً پُوران دُخت تھی جو مختصر عرصہ کے لئے تختِ ایران پر جلوہ گر رہی، وہ اس بات سے خوفزدہ تھی کہ عرب میں ایرانی نوآبادیات تختِ ایران کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں۔
یمن میں صورت حال خاص طورپر بڑی سنگین تھی۔ یمن ثقافتی اعتبا رسے نہایت ترقی یافتہ علاقہ تھا اور انتہائی شاندار ماضی کا حامل تھا۔یمن میں روم اور ایتھنز سے بھی پہلے مہذب حکومتیں قائم تھیں۔ رسول اﷲﷺ کے ظہورسے صرف ایک نسل قبل یمن میں عظیم الشان سلطنت قائم تھی جس کی حدود میں ناصرف پورا جزیرہ نما عرب بلکہ وہ وسیع علاقے بھی شامل تھے جو بعد میں باز نطینی اور ایرانی سلطنتوں کا حصہ بنے۔ اب یہی یمن ایرانیوں کی غلامی کے خلاف نبرد آزما تھا۔ یمنی ایرانیوں کی غلامیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے یمن میں آباد تمام ایرانیوں، ایرانی النسل حکام اور فوجیوں کو قتل کرنے کی سازشوں میں مصروف تھے۔اس موقع پر رسول اﷲﷺ کی طرف سے اہل یمن کو قبولِ اسلام کی دعوت کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔پہلے خالدؓ ابن ولید اور پھر حضرت علیؓ کو اس علاقے میں بھیجاگیا۔چنانچہ جہاں یمن کے بہت سے قبائل آسانی سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے، وہاں نجران کے عیسائیوں نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کرکے امن سے رہنے کو ترجیح دی۔یمن کا دانشمند ایرانی گورنر باذان بھی آتش پرستی سے توبہ کرکے حلقہ بگوش اسلام ہوگیا۔ رسول اللہﷺنے باذان کو گورنر کے عہدے پر برقرار رکھا اور کچھ عرصہ بعد جب وہ وفات پاگیا تو رسول اﷲﷺ نے اس کے بیٹے کو گورنر مقررکردیا۔ رسول اﷲﷺ کے اس اقدام سے یمن میں مقیم بہت سے ایرانیوں کو تحفظ کا احساس نصیب ہواہوگا۔ رسول اﷲ ﷺ نے یمن کی انتظامیہ کے لئے مدینہ سے بہت سے لوگوں کوبھیجا۔یہ سب لوگ نہایت پرہیز گار اور صالح مسلمان شمار ہوتے تھے اور ان میں بعض مثلاً ابو موسیٰ الاشعری، یمنی النسل تھے۔انہوں نے یمن میں بطور جج ،استاد ،ٹیکس کلکٹر اور عام انتظامی افسروں کی حیثیت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔معاذابن جبل جن کی مسجد آج بھی قصبہ جند میں موجود ہے ،انسپکٹر جنرل تعلیم کے عہدے پرفائز کیے گئے۔انہوں نے یمن کے ایک ایک علاقے کا دورہ کیا اور ہرجگہ تعلیم کے انتظامات کیے۔ رسول اﷲﷺ نے چند فوجی دستے یمن کے اس بُت خانہ کو مسمار کرنے کے لیے بھیجے جسے کعبہ کا ہمسر تصورکیا جاتاتھا۔ جب اس بُت خانے کوگرایا گیا اور جب بُت شکنوں پر بُتوں کا کوئی غضب نازل نہ ہوا، تویمن کے سادہ لوح عوام کے دلوں میں موجود موہوم خدشات بھی دور ہوگئے۔ جلد ہی عملی طورپر پورا یمن اسلام لے آیا،صرف نجران کا عیسائی قبیلہ اور اکادُکا یہودی خاندان باقی رہ گئے جو اپنے اپنے مذہب پر قائم تھے۔
نجران کے عیسائی مذہبی معاملات میں بے حد منظم تھے۔ ظہورِ اسلام سے قبل وہاں غیر ملکی مبلغ تک آتے تھے۔ایسا ہی ایک مبلغ اٹلی کا گریگنتس تھاجس نے بنونجران میں مسیحیت کو راسخ پایا۔ یہودی بادشاہ ذونواس نے مذہبی اختلاف کی بنا پربنو نجران پر جو مظالم توڑے ان کی بنا پراپنے مذہب پر ان کا اعتقاد اور بھی راسخ ہوگیا۔ انہوں نے اپنا ایک وفد بھی مدینہ بھیجا جس کی قیادت ان کا بشپ اور اس کا نائب کررہے تھے، اس سے ظاہر ہو تاہے کہ نجران میں کلیسا کی مضبوط تنظیم قائم تھی۔ انہوں نے مدینہ میں عقائد پر بحث مباحثہ بھی کیا۔ رسول اﷲﷺ سے مذکرات کے دوران ان کی اجتماعی عبادت کا وقت ہوگیا۔ مذاکرات مسجد نبوی میں ہورہے تھے۔چنانچہ عیسائی وفد عبادت کے لیے واپس اپنے کیمپ میں جانا چاہتاتھا مگر رسول اﷲﷺ نے مہمان نوازی کے ارفع جذبہ کے تحت کہا’’ اگر آپ لوگ پسند کریں توآپ مسجد میں ہی عبادت کرسکتے ہیں‘‘۔ عبادت کے بعد عیسائی وفد نے پھر مذاکرات شروع کردئیے۔ رسولِاﷲﷺ نے ان کے سوالوں کے اطمینان بخش جواب دیے اور مزید کہا’’ اگر آپ کا اطمینان نہ ہوا ہو تو آیئے ہم خد اسے رجوع کرتے ہیں۔ آیئے ہم دونوں (فریق) اﷲ سے دعاکریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے اور ہم دونوں میں جوجھوٹا ہو اس پر، اس کے خاندان اور بال بچوں پر اپنا غضب نازل کرے۔‘‘(دیکھیے قرآن سورۂ آل عمران:21)اس پر عیسائی وفد نے غورکرنے کی مہلت مانگی ، انہوں نے تنہائی میں باہم مشورہ کیا۔ انہوں نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے سوچا’’ اگر محمد(ﷺ)واقعی اﷲ کے رسول ہیں تو ان کی بددعا ہمیں دونوں جہانوں میں تباہ کرکے رکھ دے گی۔بہتر ہے کہ ان سے معاہدہ صلح کرلیاجائے۔ چنانچہ انہوں نے رضاکارانہ طورپر مسلم حکومت کی بالادستی تسلیم کرلی اور رسول اﷲﷺ سے تحریری معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدہ کے تحت نجران کے عیسائیوں کو انتظامی اور مذہبی معاملات میں مکمل آزادی دی گئی۔ رسول اﷲﷺ نے حکم دیا کہ نجران کے عیسائی قرضوں پر سُود ادا نہ کریں بلکہ صرف اصل زر ہی اداکریں۔ فطری طورپر رسول اﷲﷺ نے ان سے یہ بھی کہا کہ وہ بھی مستقبل میں قرضوں پر سُود وصول نہ کریں۔ (یہ تحریری معاہدہ بھی اب تک محفوظ ہے۔)
یمن کے متعدد دوسرے قبائل نے بھی اپنے وفد مدینہ بھیجے اور اسلام قبول کیا۔یمن کا وسیع وعریض علاقہ تین سال کے اندر کسی جنگ کے بغیر اسلامی سلطنت کے زیرِ نگیں آگیا۔
عمان عرب کے جنوب مشرق میں ایک ریاست تھی جہاں جلندیٰ کے دوبیٹے جعفر اور عبد مشترکہ طورپرحکومت کرتے تھے۔ رسول اﷲﷺ کی دعوت پر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ چنانچہ رسول اﷲﷺ نے اپنے وعدہ کے مطابق دونوں کو عمان کی حکومت پر برقراررکھا۔ اس طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے یہ اشارہ بھی دے دیا کہ اسلام میں مشترکہ حکومت رَواہے، تاہم رسول اﷲﷺ نے عمان میں اپنا ایک نمائندہ مقررکردیا جو مسلمانوں کی تعلیم وغیرہ کی نگرانی کرتا تھا۔
عمان کا علاقہ اقتصادی لحاظ سے بڑا اہم تھا اس کی بینالاقوامی بندرگاہیں اور وہاں کے تجارتی میلے اسلامی مملکت کے لئے وقار اور قوت کا باعث بنے۔
عبدالقیسکا قبیلہ جعفرکی حکومت کے تحت نہ تھا بلکہ آزاد تھا کیونکہ انہوں نے اپنا وفد الگ سے رسول اﷲﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔ جس نے مدینہ سے پیغمبراسلامﷺ سے براہ راست مذاکرات کیے۔ وفد کے ارکان یہ جان کر ششدر رہ گئے کہ رسول اﷲﷺ ان کے ملک کا وسیع دورہ کرچکے ہیں اور (ظہور اسلام سے قبل) کافی عرصہ عمان میں گزارچکے ہیں۔رسول اﷲﷺ عمان کے بہت سے لو گوں کوذاتی طورپر جانتے تھے انہوں نے اہل وفد سے عمان کی تازہ خبریں بھی دریافت کیں۔بات چیت نہایت خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔
دبا کا علاقہ زبردست اقتصادی اہمیت کا حامل تھا۔ دبا اور مقشّر کے مقامات پر سالانہ تجارتی میلے منعقد ہو تے تھے۔جن میں کئی ممالک کے تجّار شریک ہوتے۔ دبا عرب کی دوبڑی بندرگاہوں میں سے ایک تھی۔ اس کے تجارتی میلہ میں عرب کے کونے کونے سے ہی نہیں بلکہ چینی ،ہندی ، سندھی اور مشرق ومغرب سے تاجر اپنا مالِتجارت لیکر شریک ہوتے تھے‘‘۔
جب یہ علاقہ غیر ملکی تسلط سے آزاد ہوگیا تو رسول اﷲﷺ نے دبا کا الگ گورنر مقرر کیا۔ یہ گورنر دبا کا رہنے والا ایک مسلمان تھا۔ اسکے فرائض میں دبا کی بندرگاہ، شہر اور منڈی کی دیکھ بھال شامل تھی۔
موجودہ بحرین جو خلیج عرب وفارس میں جزیرہ عرب کے مشرق میں واقع ہے ان دنوں اُوال کہلاتاہے۔ ان دنوں جس علاقے کو بحرین (بحران) کہتے تھے (بحرین کا لغوی ترجمہ دوسمندرہے) وہ سعودی عرب کا موجودہ ضلع الحساء ہے جو سعودی عرب کا ایک حصہ ہے۔غالباًظہورِ اسلام کے وقت اس علاقے میں موجود قطر بھی شامل تھا۔ قطر خلیج کو دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے اور یوں دوسمندروں کی تخلیق کا باعث بنتا ہے۔ بہرحال! اس علاقے(بحران یا بحرین) کے عرب گورنر المنذر ابن سادہ نے اسلام قبول کرلیا۔ وہ اسلامی حکومت کا نہایت پرجوش منتظم ثابت ہوا۔ تاریخ میں رسول اﷲﷺ کے نام پراس کے نصف درجن سے زائد خطوط کا ذکر آتاہے ان میں اک خط کا اصل ہم تک پہنچا ہے۔ یہ خط پہلی باربرلن کے ایک پبلشرZDMG نے شائع کیاتھا۔
شمال مشرقی عرب کے قبیلہ بنو تمیم نے نہایت آسانی سے اسلام قبول کرلیا۔ اس کے مزید شمال میں جنوبی عراق کا علاقہ بھی عربوں کا گہوارہ تھا ۔اس علاقے میں حیرہ(موجودہ کوفہ) کی ریاست سمیت عرب قبائل آباد تھے ۔ایرانی حکومت کی جنوبی اور مشرقی عرب میں جو نوآبادیات تھیں ان پر دارلحکومت مدائن کے قُرب وجوار کی آبادیوں کی نسبت حکومت کی گرفت کمزور تھی تاہم حیرہ کے حکمران قبیلہ بنولخم کے متعدد ذیلی قبائل نے اسلام قبول کرلیا۔ رسول اﷲﷺ کی طرف سے جو اسناد فراہم کی گئیں تاریخ میں ان کا ذکر ملتاہے۔
حیرہ(کوفہ) کے جنوب مشرق میں سماوہ کا علاقہ ہے۔ رسول اﷲﷺ کے ایک خط کا ذکر ملتاہے جو حضورﷺنے سماوہ کے فرمانروا اُنفاثہ الدیالی کے نام لکھا تھا تاہم اس خط کی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ یہ بادشاہ بھی عربیالنسل تھا اور اس امر کے قوی امکانات ہیں کہ اس نے ایرانیوں کی باجگزاری سے نجات پانے اور آزادی حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیا ہو، تاہم اس سلسلے میں کوئی یقینی بات کہنا ممکن نہیں۔
کیا رسولِاکرمﷺ کے ہندوستان سے کوئی تعلقات تھے؟ اس ضمن میں کچھ یقین سے تو نہیں کہا سکتا لیکن اسے ناممکن بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عر ب تجار ظہورِاسلام سے قبل ہی سندھ اور مالا بار کی بندرگاہوں پر بکثرت آتے جا تے تھے۔ ہندی تاجر بھی جنوب مشرقی عرب کی بین الاقوامی بندرگاہ دبا کے تجارتی میلے میں شرکت کرتے تھے(دیکھیے ابن حبیب کی المحبرّ، صفحہ625) اس امر کا بھی قومی امکان ہے کہ ہندی تاجر یمن بھی جاتے تھے(دیکھیے ابن ہشام صفحہ265) کیونکہ یمن کے حکمران سیف ابن ذی یزن نے ایک بار ایرانی شہنشاہ کواطلاع دی کہ اس کے ملک پر ’’.کوّوں‘‘ نے قبضہ جمالیا ہے اور اس کی امداد کی جائے۔ ’’کون سے کوّے؟‘‘کسریٰ نے وضاحت طلب کی ’’یہ ہندی کوّے ہیں یاحبشہ سے آئے ہیں؟‘‘شہنشاہِ ایران کے ذہن میں یہ سوال آہی نہیں سکتاتھا اگر یمن اور ہندکے درمیان مستحکم تعلقات نہ ہوتے..... جہاں تک دبا کاتعلق ہے رسول پاکﷺ خود وہاں جا چکے تھے(دیکھیے ابن حنبلؒ جلد 4،صفحہ206) ’’میں نے تمہارے ملک کا وسیع دورہ کیاہے‘‘ مصنف رسول اﷲ ﷺ کی دو احادیث کا تذکرہ کرتاہے جن کے مطابق رسول اﷲﷺ نے مشقّر اوربعض دوسرے علاقوں کا نام لیا جہاں کا وہ سفرکرچکے تھے)چنانچہ یہ کوئی تعجب خیز امر نہیں کہ جب یمن کے قبیلہ بل حارث کا وفد مدینہ گیا اور رسول اﷲﷺ نے پوچھا ’’یہ کون لوگ ہیں جو ہندی معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ (دیکھیے ابن ہشام صفحہ960 ۔ابنِسعد 2/1،صفحہ72، نسائی 41/25)۔ ابن حنبلؒ (229-6) کے مطابق ابوہریرہؓ جو یمنی النسل تھے اکثر کہا کرتے تھے ’’رسول اﷲﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہندوستان کی طرف ایک مہم بھیجی جائے گی اگر میں وہاں (ہندمیں) ہلاک ہوجاؤں تو میں بہترین شہداء میں سے ہوں گا اور اگر میں صحیح وسالم واپس آجاؤں تو میں وہی آزاد شدہ غلام ابوہریرہؓ رہوں گا۔ رسول پاک ﷺ سے ایک حدیث بھی منسوب کی جاتی ہے ،فر مایا’’مجھے ہندوستان کی طرف سے تازہ ہوا آتی ہے‘‘۔
رسول اﷲﷺ کی زندگی میں صرف ہندی لوگوں کا ہی نہیں ان کے مذہب کا بھی ذکر آیاتھا۔ قدیم مسلم مورخ عبدالکریم الجیلی اور دور حاضر کے پروفیسر مولانا مناظر احسن گیلانی نے بھی اس کا ذکر کیاہے۔
میں اس تعارف کو متبحّر عالم مولانا غلام آزاد بلگرامی (دیکھیے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام) کی دو تصانیف اول ان کی سوانحی لُغت ’’ سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان ’’ کا مقدمہ اور دوسری ’’شمامۃ العنبر فی ماوردعن الہندعن سید البشر‘‘ کے ذکر پر ختم کرتاہوں۔
ہندوستان کے جنوب مغربی ساحلی علاقہ مالابار میںیہ روایت مشہور ہے کہ اس علاقہ کے ایک بادشاہ چکرورتی فرما س نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھاتھا ۔یہ رسول اﷲﷺ کا معجزہ تھا جو مکہ مکرمہ میں ظہور پذیر ہوا، بادشاہ چکر ورتی فرماس نے اس سلسلے میں جب تحقیقات کیں تو اسے علم ہوا کہ عرب میں ایک پیغمبر کے ظہور کی پیشگوئیاں موجودہیں۔ اورشق القمر کا مطلب یہ ہے کہ وہ پیغمبرِ خدا ظاہر ہوچکاہے۔چنانچہ اس نے اپنے بیٹے کو اپنا جانشین مقررکیا اور خو د رسول اﷲﷺ سے ملاقات کے لئے عرب روانہ ہوگیا۔ اس نے رسول اﷲﷺ کے رُوبرو اسلام قبول کیا اور پھر ان کے حکم پرواپس ہندروانہ ہوگیا۔ راستے میںیمن کی بندرگاہ ظفار میں اس کا انتقال ہوگیا۔یہاں آج بھی ’’ہندی بادشاہ‘‘ کامزار مرجع خاص عوام ہے۔ انڈیا آفس لائبریری (لندن)میں ایک پرانا مسودہ (نمبر، عربی2807، ص۔173-152) ہے جس میں اس کی تفصیل درج ہے۔ زین الدین المعبری کی تصنیف ’’تحفہ المجاہدین فی بعد اخبار الپرتگالین‘‘ میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے( اس کتاب کا پرتگیزی ترجمہ انگریزی سے کہیں بہتر ہے مگر اس کا اردو ترجمہ نا مکمل ہے۔)
ترکی کے لوگوں کے بارے میں توبہت ہی کم مواد موجود ہے۔ علامہ بلاذری اپنی کتاب انساب الاشراف (485-1) میں روایت کرتے ہیں کہ کہ اسلام کی پہلی شہید خاتون سمیہّ عمار ابن یاسر کی والدہ تھیں۔انہیں ابوجہل نے شہید کیاتھا۔ انکا اصل نام پامیخ تھا اور ان کا تعلق ایران کے علاقہ کسگر سے تھا۔پامیخ کو جدید ترکی میں ’’پاموک‘‘ کہتے ہٰں جس کے لغوی معنی کپاس کے ہیں۔اور یہ کسی ترک خاتون کانام ہی ہوسکتاہے۔ خد ااس خاتون کے درجات بلندکرے۔ ہندوستان کی طرح ترکی میں بھی ایک شخص مقلاب ابن ملکان الخوارزمی گزراہے جس نے یکے از صحابہؓ رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔(دیکھیے ابن حجر،اصابہ۔2126)
چین کے بارے میں حضور اکرم کی ایک معروف حدیث ’’علم حاصل کرو خواہ اس کیلئے چین جانا پڑے‘‘ یہ یقین کرنے کی کافی وجوہ موجود ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی چینیوں سے ملاقات ہوئی تھی۔ حضور اکرم ﷺ نہ صرف ان کی استقامت سے متاثر ہوئے کہ وہ کئی ماہ تک سمندر میں سفر کرکے آئے تھے بلکہ ان کی مصنوعات کی عمدگی نے بھی رسول اﷲﷺ کو متاثرکیاتھا۔ ایک طرف تو مسعودی لکھتے ہیں(دیکھیے علامہ مسعودی کی ’’مروج الذہب‘‘308-1) کہ چینی ظہورِ اسلام سے قبل بڑی بڑی کشتیوں میں بحران (بحرین) اور عمان آتے تھے اور دوسری طرف ابن حبیب دبا کے تجارتی میلہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ یہ (دبا) عرب کی دوبڑی بندرگاہوں میں سے ایک تھی اور اس کے سالانہ تجارتی میلے میں ہند، سندھ،چین اور مشرق ومغرب سے تجار آتے تھے‘‘۔
چینی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے شاہِ چین کے دربار میں سفیر بھیجا تھا اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔ اس سفیر کا نام ابوعبیدہؓ تھا۔ وہ بعد میں دوبارہ چین گئے اور اسی جگہ ان کا انتقال ہوگیا۔ان کا مقبرہ سنگان فومیں ہے۔ (ان کے مقبرے میں تحریروں کے سلسلے میں ملاحظہ کیجیے وین لینگ وُوکی ’’مہذہبی کتبات‘‘ پیکنگ 1957، اور بروم مارشل کی ’’چین میں اسلام‘‘ ص۔90-83-66)
بحوالہ: ڈاکٹر حمید اللہ
پیغمبراسلامﷺ نے صر ف دفاع کی خاطر اور وہ بھی بڑے تامل کے ساتھ ہتھیار اٹھائے تھے۔ جب اسلام کے پرانے دشمنوں کی احمقانہ معاندت ختم ہوگئی تو آپﷺ کا صرف ایک ہی کام اور ایک ہی مقصد رہ گیا کہ عرب اور دیگرممالک میں پرامن طورپر اسلام کی تبلیغ کی جائے۔
حدیبیہ سے واپسی کے بعد جب آپﷺ اہل مکہ سے پُرامن بقائے باہمی پر مفاہمت میں کامیاب رہے۔ آپﷺنے بیرونی ممالک میں قاصد روانہ کرنا شروع کردیے۔ 7ہجری میں انھوں نے بازنطینی فرمانروا، والیِ مصر، شاہِ حبشہ اور شاہِ ایران کے نام مراسلے ارسال کیے جن میں ان فرمانرواؤں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ان ممالک کی طرف بھیجنے کے لیے نبیﷺ نے ایسے افراد کا انتخاب کیا جو پہلے ہی ان ممالک کا دورہ کرچکے تھے اور وہاں کی زبان کسی حد سمجھ سکتے تھے۔
رسول اﷲ ﷺ نے جن فرمانرواؤں کو خطوط ارسال کیے ان میں ہرقل معمولی گھرانے کا فردتھاجو قسطنطنیہ میں ایک فوجی انقلاب کے نتیجہ میں برسرِ اقتدار آیاتھا۔ اس نے انہی دنوں ایرانیوں پر زبردست فتح حاصل کی تھی اور انہیں اپنی مملکت کے ان حصوں سے ماربھگایاتھا جس پر انہوں نے قبضہ کررکھاتھا۔ فطری طورپر شہنشاہ ہرقل، عرب کے کسی باشندے کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہوسکتاتھا جبکہ عرب کا ایک حصہ خود اس کی سلطنت کی ایک نو آبادی تھا۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے ہرقل نے اپنے ایک سردار کو محض اس لیے پھانسی دے دی تھی کہ اس نے اسلام قبول کرلیاتھا۔ اس نے مسلم سفیر کو قتل کرنے والے گورنر کو پناہ دی جس نے بین الاقوامی قوانین اور اصول وقواعد کی صریح خلاف ورزی کی تھی۔ جب پیغمبر نے سفیر کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے فوجی مہم موتہ بھیجی تو ہرقل نے ایک زبردست فوج کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔اس کا رویّہ ایک بیاصول ظالم اورجابر بادشاہ کا تھا۔
ایرانیوں اور بازنطینیوں دونوں نے عرب کے اندر اور گرد ونواح میں اپنی نوآبادیاں قائم کررکھی تھیں۔ انہوں نے عربوں کو غلام بناکررکھاہواتھااور وہ ان سے دوسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک کرتے تھے۔وہ عربوں کو کمتر نسل تصور کرتے تھے۔ رسول اﷲﷺ نے براہِ راست یونانیوں(رومیوں) سے رابطہ پیداکرنے سے قبل ان عرب سرداروں سے رابطہ کا فیصلہ کیا۔
سینٹ پال کے دور میں عرب نا صرف دور دور تک آباد تھے بلکہ انہوں نے دمشق کے شمالی علاقہ میں چھوٹی موٹی سرداریاں بھی قائم کررکھی تھیں۔ اس وقت اس علاقے کا حکمران حارث (ارٹیس) نامی ایک شخص تھا۔ رسول اﷲﷺ کے دور میں اس علاقے میں عرب قبیلہ غسان آباد تھا جس نے عیسائیت قبول کرلی تھی۔ رسول اﷲﷺ نے اس قبیلہ کے مختلف سرداروں کے نام بھی خط بھجوائے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔
نبیﷺ نے پہلا خط حارث ابن شمیر کولکھا۔مگر اس نے رسول اﷲ ﷺ کی دعوت مسترد کردی۔جلدہی اس کا انتقال ہوگیا یہ 8ہجری کا واقعہ ہے۔ پھر اس کے جانشیین جبلہ الایہم کو بھی اسی طرح کاپیغام بھیجاگیا۔ اس کے قبولِاسلام کے بارے میں متضاد روایات ملتی ہیں۔ رسولِاﷲﷺ نے حاکم بصرہ کے نام بھی اسلام کا دعوت نامہ ارسال کیا۔ یہ خط حارث ابن عمیر الازدی لیکر گئے مگر عیسائی سردار شرجیل ابن عمر و الغسانی نے رسول اﷲ ﷺ کے سفیر کو گرفتار کرکے قتل کردیا۔ عیسائی سردار کایہ فعل تمام بینالاقوامی اصول وقواعد کی کھلی خلاف ورزی تھا۔ رسول اﷲ ﷺ نے سفیر کے قتل کا تاوان طلب کیا اور مطالبہ کیا کہ مجرم کو سزادی جائے۔ لیکن شہنشاہ ہرقل نے مسلمانوں کی چھو ٹی سی مہم کے مقابلہ میں ایک لاکھ سپاہ پر مشتمل وہ فوج روانہ کردی جو اس نے ایران کی مہم کے لئے بھرتی کی تھی اور ابھی اسے فارغ نہیں کیا گیا تھا۔رسول اﷲﷺ نے اس مہم کے لئے تین ہزار افراد پر مشتمل فوج خشکی کے راستے اور کچھ کمک سمندر کے راستے بھجوائی تھی ، مسلم فوج کا ہرقل کی فوج سے موتہ کے مقام پر مقابلہ ہوا،مسلمان دشمن کی تعداد سے خائف نہیں تھے،جنگ شروع ہوئی مسلمانوں کے دوسینئر جرنیل ،کمانڈر انچیف ،زید بن حارثہؓ ( رسول اﷲﷺ کے لے پالک صاحبزادے) اور ان کے نائب جعفر الطیارؓ ابن ابو طالب(رسول اﷲﷺ کے عم زاد) شہید ہوگئے۔ اس کے بعدفوج نے خالد ابن ولید کو سپہسالار منتخب کیا۔ انہوں نے دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور اسلامی فوج کو بتدریج پیچھے ہٹالائے۔دشمن کو مسلم فوج کا تعاقب کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اسلامی فوج مدینہ میں وارد ہوئی جس کے بعد9ہجری میں رسول اﷲﷺ خود تیس ہزار افراد پر مشتمل فوج لیکر نکلے۔ راستے میں اسلامی فوج جس جگہ پڑاؤ ڈالتی، وہاں ایک مسجد تعمیر کردی جاتی۔آپﷺ نے پورے شمالی عرب اور جنوبی فلسطین پر مسلمانوں کی بالادستی قائم کرلی۔ اسلامی فوج نے دُومۃ الجندل ،مقنہ ، ایلہ ، جربا اور ازرُح پر قبضہ کرلیا۔ یہ تمام شہر باز نطینیوں نے خالی کردیے تھے۔ ان میں ایلہ کی بندرگاہ زبردست اہمیت کی حامل تھی۔ علاقہ کی عرب آبادی نے جوعیسائیت کوقبول کرچکی تھی، ظالم بازنطینیوں کے خلاف بغاوت کردی تھی، وہ روادارا ور اصول پرست مسلمانوں کے سائے میں زندگی بسر کرنے پر خوش تھے۔ ان علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ مستحکم ہوگیا اور اب رومی شہنشاہ ان میں مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔ تاہم ابھی اسلامی مملکت کی سرحدوں کی صورت حال مستحکم نہ تھی۔ چنانچہ ڈیڑھ سال بعد ایک اور فوجی مہم روانہ کی گئی۔ یہ فوج عین اس روز روانہ ہوئی جس روز رسولِاﷲﷺ کا وصال ہوا، اس فوج کو بھیجنے کا فیصلہ رسول اﷲﷺ نے کیا تھا۔ چنانچہ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکرؓ نے پیغمبرخداﷺ کا فیصلہ برقرار رکھا۔فوج کا کمانڈر اسامہؓ ا بن زید کومقرر کیا گیا۔اُسامہؓ کے والد حضرت زیدؓ جنگ موتہ میں اسلامی فوج کی کمان کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرچکے تھے۔ اس فوج نے اسلامی مملکت کی حدود کو مزید شمال میں وسعت دی اور جلدہی فلسطین مسلمانوں کے زیرِنگیں آگیا۔
عمان کے عرب گورنر کو بھی رسول اﷲ ﷺ نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور اس نے اسلام قبول کرلیا مگر ہر قل کے حکم سے اسے قتل کر دیاگیا۔
مصر، سلطنتِ بازنطین کا ایک حصہ تھا جب ایرانیوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے قبطیوں سے فیاضانہ سلوک کیا جو باز نطینی حکومت کے ’’مذہبی مظالم ‘‘ سے تنگ آچکے تھے۔ ایرانیوں نے قبطیوں میں سے ایک شخص کو ان کا حکمران بنادیا جسے مقوقس کا خطاب دیا گیا۔مقوقس کا لفظ ایرانی المخرج معلوم ہوتا ہے۔ ایرانیوں کو جب نینوا کے مقام پر ہرقل کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تو وہ مصر بھی خالی کرنے پرمجبور ہوگئے۔ غالباً یہی دور تھا جب رسول اﷲﷺ نے قبطیوں کے سردار کو خط لکھا اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ قبطی سردار نے رسول اﷲﷺ کے خط کا نہایت مودّبانہ جواب دیا، تاہم مقوقس کے قبولِاسلام کا مقصد حاصل نہ ہوسکا۔مقوقس نے اسلامی سفیر کو متعدد تحائف دیے۔ رسول اﷲﷺ نے مقوقس کو جو خط لکھا تھا اس کا اصل مسودہ اب تک محفوظ ہے اور ان دونوں استنبول (ترکی) کے مشہور میوزیم توپ کاپی میں موجود ہے۔
حبشہ کا علاقہ یمن کے قریب تھا ظہور اسلام سے بہت پہلے مکہ سے حبشہ کے نہایت قریبی اقتصادی تعلقات قائم تھے۔ کہا جاتاہے کہ یہودی حکمران ذُونواس نے عیسائیوں پر مذہبی اختلاف کی بنا پر اتنے مظالم کیے کہ حبشہ کے عیسائیوں نے یمن پر حملہ کردیا اور اس پر قبضہ کرلیا۔ لیکن فاتح عیسائیوں کے جرنیلوں کے درمیان حسد ورقابت کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے گلے۔ اس خُونریزی اور جنگ وجدل کے بعدابرہہ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے یمن کا گورنربن گیا۔ وہ مذہب کے معاملے میں بڑا کٹراور ہٹ دھرم تھا۔ یہ وہی ابرہہ ہے جس نے کعبۃ اﷲ کو ڈھانے کے لیے مکہ پرحملہ کیا تھا کیونکہ وہ کعبہ کوعرب میں عیسائیت کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصورکرتاتھا۔ حضوراکرم ﷺ نے مختلف حکمرانوں کوخط لکھے ان میں حبشہ کا شاہ نجاشی بھی شامل تھا۔ مسلمانوں سے نجاشی کے تعلقات اس خط سے بہت پہلے سے قائم تھے۔ حضورپاکﷺ کے اعلانِنبوتﷺ سے کوئی پانچ سال بعد مکہ میں چند اہل اسلام پر اتنے مظالم ڈھائے گئے کہ انہوں نے مادرِ وطن سے ہجرت کرکے سمندر پار کے ملک حبشہ میں پناہ لینے کافیصلہ کیا۔ اگلے سال اہل مکہ نے دو سفارتیں حبشہ بھیجیں تاکہ مسلمانوں کو حبشہ سے نکال کر اہل مکہ کے حوالے کیاجائے۔ مگردونوں سفارتیں ناکام رہیں۔ جب مکہ والوں کا دوسرا وفد حبشہ گیا تو رسول اﷲﷺ نے بھی اپنا ایک سفیر حبشہ بھیجا تاکہ اہل مکہ کی سازش کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس دورکی حبشہ کی تاریخ معلوم نہیں ہوسکی، جس کے باعث یہ قطعی انداہ نہیں ہوسکتاکہ حبشہ کے جس شاہِنجاشی نے مکی مسلمانوں کو پناہ دی اور دس سال بعد جس نجاشی نے اہل مکہ کے دوسرے وفد سے ملاقات کی تھی وہ ایک شخصیت تھی یا دو مختلف افراد تھے۔قیاس کیا جاتاہے کہ یہ ایک ہی شخصیت تھی اور پیغمبرِ اسلام ﷺ سے اس کے تعلقات نہایت دوستانہ تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اﷲﷺ نے اسے خط لکھا تھا جس میں اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔(نبیﷺ کے اس خط کا اصل مسودہ اس وقت دمشق میں موجود ہے۔)کہاجاتاہے کہ شاہ نجاشی نے اسلام قبول کرلیا تھا تاہم وہ اپنی رعایا کو قبول اسلام کی ترغیب نہیں دے سکا تھا۔ نجاشی کا قبول اسلام اس حقیقت سے بھی ثابت ہوتاہے کہ امام بخاریؒ کے مطابق نجاشی کی وفات کی خبر ملنے پر رسول اﷲﷺ نے مدینہ میں اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا تھا۔رسول اﷲﷺنے شاہ نجاشی کے جانشین کو بھی خط لکھا تاہم اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔مگر حبشہ کے بہت سے شہری مشرف بہ اسلام ہوئے جن میں شاہ نجاشی کا ایک بیٹا بھی شامل تھا۔ وہ بعد میں مدینہ آگیا اور رسول اﷲ ﷺ کے خاندان کے زیرِ کفالت فرد کی حیثیت سے یہیں سکونت اختیارکرلی۔
عرب میں حبشہ کے کئی شہری بھی ملتے ہیں۔ موذّنِرسول حضرت بلالؓ کو حبشی اسی بناپر کہا جاتاتھا کہ وہ حبشہ کے رہنے والے تھے۔
باز نطینی سلطنت کی طرح ایران نے بھی عرب میں نوآبادیاں قائم کررکھی تھیں۔ گو عربوں کے درمیان باہمی اختلافات تھے، وہ ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے مگر ان میں انا اور عزتِ نفس کا احساس بہت زیادہ تھا یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ بہترین وفادار حلیف ثابت ہوئے چنانچہ بنو غسان باز نطینیوں کے نہایت وفادار حلیف تھے۔ اسی طرح حیرہ (موجودہ کوفہ)کے لوگوں کے ایران سے تعلقات تھے اور وہ ایران کے حلیف تھے۔ ایک وقت تھا کہ حیرہ کے حکمرانوں نے اپنے اطوار سے ایران کے شاہی خاندان میں اتنا اعتماد پیدا کرلیا کہ ولی عہد شہزادہ بہرام گورکو بچپن میں مدائن کے شاہی محل میں رکھنے کے بجائے حیرہ بھیج دیاگیا تاکہ یہاں اسکی پرورش اور تربیت کی جاسکے۔ لیکن بعدکی نسلوں کے زمانے میں صورتِحال بالکل بدل گئی۔ایک شہنشاہ ایران نے خواہش ظاہر کی کہ والیِ حیرہ کی بیٹی شاہی حرم میں بھیجی جائے۔ مگر حیرہ کے گورنر نے انکار دیا۔چنانچہ شہنشاہ نے گورنرکومدائن طلب کیا جہاں اسے قتل کردیاگیا ۔اس پر عربوں نے حکومت ایران کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا۔شہنشاہ ایران نے عربوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا اور حیرہ پرفوج کشی کردی۔ عربوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور شاہی فوج کو جنوبی عراق میں ذوقار کے مقام پر تہس نہس کردیا۔ یہ واقعہ انہیں دنوں رونما ہو جب کفارمکہ اور مسلمانوں کے درمیان جنگِ بدر لڑی گئی۔ رسول اﷲﷺ ایران کے آں جہانی شہنشاہ نوشیرواں کی عادلانہ حکومت کے معترف تھے لیکن وہ ایرانیوں کی آتش پرستی اور زرتشت کی طرف سے مذہب کے نام پر روارکھی جانے والی بدعتوں کے سخت خلاف تھے۔ہمیں اس صدائے باز گشت قرآن حکیم کی سورۂ روم میں بھی سنائی دیتی ہے۔ پیغمبر اسلامﷺکی مدینہ کو ہجرت سے قبل ایرانیوں نے باز نطینی سلطنت پر حملہ کرکے شام، فلسطین اور مصر پر قبضہ کرلیاتھا۔قرآن میں کہا گیا ہے ’’رومی (بازنطینی)ہمسایہ ممالک میں شکست سے دوچار ہوئے مگر چند سالوں کے لیے اور وہی فاتح ہوں گے۔‘‘ عیسائیوں کو نسبتاً مسلمانوں کے قریب تصور کیا جاتاتھا اور زرتشتی (ایرانی) کفار مکہ کے ہم مشرب تصورہوتے تھے۔
7ہجری میں جب پیغمبر اسلامﷺ نے خسرو پرویز کو اسلام کی دعوت دی اور اسے خط لکھا......اس خط کا اصل مسودہ ہم تک پہنچا ہے......یہ کہنامشکل ہے کہ آیا رسول اﷲﷺ کا یہ خط خسرو پرویز نے وصول کیاتھا، یا اس کے کسی جانشین کوملاتھا۔ کیونکہ بالکل انہیں دنوں ایرانیوں کو نینواکے مقام پر مکمل تباہی کا سامنا کرناپڑاتھا۔ شہنشاہِ ایران کو خوداس کے بیٹے نے قتل کردیا تھا اور پایۂتخت مدائن(تیسفُون)میں وارثانِ تخت جلد جلد بدل رہے تھے۔بہرحال! اسلامی سفیر سے نہایت توہین آمیز سلوک کیا گیا اور اسے بے عزت کرکے ایرانی دربار سے نکال دیا گیا۔ ترمذی کی ایک حدیث کے مطابق ایران کی ایک ملکہ نے مدینہ میں ایک سفارت بھیجی۔ ایرانی سفیر تحفے لیکر رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کا مقصد سابق شہنشاہ کی طرف سے مسلمانوں کو پہنچائی جانے والی اذیّت کا مداواکرناتھا۔ایران کی یہ ملکہ غالباً پُوران دُخت تھی جو مختصر عرصہ کے لئے تختِ ایران پر جلوہ گر رہی، وہ اس بات سے خوفزدہ تھی کہ عرب میں ایرانی نوآبادیات تختِ ایران کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں۔
یمن میں صورت حال خاص طورپر بڑی سنگین تھی۔ یمن ثقافتی اعتبا رسے نہایت ترقی یافتہ علاقہ تھا اور انتہائی شاندار ماضی کا حامل تھا۔یمن میں روم اور ایتھنز سے بھی پہلے مہذب حکومتیں قائم تھیں۔ رسول اﷲﷺ کے ظہورسے صرف ایک نسل قبل یمن میں عظیم الشان سلطنت قائم تھی جس کی حدود میں ناصرف پورا جزیرہ نما عرب بلکہ وہ وسیع علاقے بھی شامل تھے جو بعد میں باز نطینی اور ایرانی سلطنتوں کا حصہ بنے۔ اب یہی یمن ایرانیوں کی غلامی کے خلاف نبرد آزما تھا۔ یمنی ایرانیوں کی غلامیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے یمن میں آباد تمام ایرانیوں، ایرانی النسل حکام اور فوجیوں کو قتل کرنے کی سازشوں میں مصروف تھے۔اس موقع پر رسول اﷲﷺ کی طرف سے اہل یمن کو قبولِ اسلام کی دعوت کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔پہلے خالدؓ ابن ولید اور پھر حضرت علیؓ کو اس علاقے میں بھیجاگیا۔چنانچہ جہاں یمن کے بہت سے قبائل آسانی سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے، وہاں نجران کے عیسائیوں نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کرکے امن سے رہنے کو ترجیح دی۔یمن کا دانشمند ایرانی گورنر باذان بھی آتش پرستی سے توبہ کرکے حلقہ بگوش اسلام ہوگیا۔ رسول اللہﷺنے باذان کو گورنر کے عہدے پر برقرار رکھا اور کچھ عرصہ بعد جب وہ وفات پاگیا تو رسول اﷲﷺ نے اس کے بیٹے کو گورنر مقررکردیا۔ رسول اﷲﷺ کے اس اقدام سے یمن میں مقیم بہت سے ایرانیوں کو تحفظ کا احساس نصیب ہواہوگا۔ رسول اﷲ ﷺ نے یمن کی انتظامیہ کے لئے مدینہ سے بہت سے لوگوں کوبھیجا۔یہ سب لوگ نہایت پرہیز گار اور صالح مسلمان شمار ہوتے تھے اور ان میں بعض مثلاً ابو موسیٰ الاشعری، یمنی النسل تھے۔انہوں نے یمن میں بطور جج ،استاد ،ٹیکس کلکٹر اور عام انتظامی افسروں کی حیثیت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔معاذابن جبل جن کی مسجد آج بھی قصبہ جند میں موجود ہے ،انسپکٹر جنرل تعلیم کے عہدے پرفائز کیے گئے۔انہوں نے یمن کے ایک ایک علاقے کا دورہ کیا اور ہرجگہ تعلیم کے انتظامات کیے۔ رسول اﷲﷺ نے چند فوجی دستے یمن کے اس بُت خانہ کو مسمار کرنے کے لیے بھیجے جسے کعبہ کا ہمسر تصورکیا جاتاتھا۔ جب اس بُت خانے کوگرایا گیا اور جب بُت شکنوں پر بُتوں کا کوئی غضب نازل نہ ہوا، تویمن کے سادہ لوح عوام کے دلوں میں موجود موہوم خدشات بھی دور ہوگئے۔ جلد ہی عملی طورپر پورا یمن اسلام لے آیا،صرف نجران کا عیسائی قبیلہ اور اکادُکا یہودی خاندان باقی رہ گئے جو اپنے اپنے مذہب پر قائم تھے۔
نجران کے عیسائی مذہبی معاملات میں بے حد منظم تھے۔ ظہورِ اسلام سے قبل وہاں غیر ملکی مبلغ تک آتے تھے۔ایسا ہی ایک مبلغ اٹلی کا گریگنتس تھاجس نے بنونجران میں مسیحیت کو راسخ پایا۔ یہودی بادشاہ ذونواس نے مذہبی اختلاف کی بنا پربنو نجران پر جو مظالم توڑے ان کی بنا پراپنے مذہب پر ان کا اعتقاد اور بھی راسخ ہوگیا۔ انہوں نے اپنا ایک وفد بھی مدینہ بھیجا جس کی قیادت ان کا بشپ اور اس کا نائب کررہے تھے، اس سے ظاہر ہو تاہے کہ نجران میں کلیسا کی مضبوط تنظیم قائم تھی۔ انہوں نے مدینہ میں عقائد پر بحث مباحثہ بھی کیا۔ رسول اﷲﷺ سے مذکرات کے دوران ان کی اجتماعی عبادت کا وقت ہوگیا۔ مذاکرات مسجد نبوی میں ہورہے تھے۔چنانچہ عیسائی وفد عبادت کے لیے واپس اپنے کیمپ میں جانا چاہتاتھا مگر رسول اﷲﷺ نے مہمان نوازی کے ارفع جذبہ کے تحت کہا’’ اگر آپ لوگ پسند کریں توآپ مسجد میں ہی عبادت کرسکتے ہیں‘‘۔ عبادت کے بعد عیسائی وفد نے پھر مذاکرات شروع کردئیے۔ رسولِاﷲﷺ نے ان کے سوالوں کے اطمینان بخش جواب دیے اور مزید کہا’’ اگر آپ کا اطمینان نہ ہوا ہو تو آیئے ہم خد اسے رجوع کرتے ہیں۔ آیئے ہم دونوں (فریق) اﷲ سے دعاکریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے اور ہم دونوں میں جوجھوٹا ہو اس پر، اس کے خاندان اور بال بچوں پر اپنا غضب نازل کرے۔‘‘(دیکھیے قرآن سورۂ آل عمران:21)اس پر عیسائی وفد نے غورکرنے کی مہلت مانگی ، انہوں نے تنہائی میں باہم مشورہ کیا۔ انہوں نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے سوچا’’ اگر محمد(ﷺ)واقعی اﷲ کے رسول ہیں تو ان کی بددعا ہمیں دونوں جہانوں میں تباہ کرکے رکھ دے گی۔بہتر ہے کہ ان سے معاہدہ صلح کرلیاجائے۔ چنانچہ انہوں نے رضاکارانہ طورپر مسلم حکومت کی بالادستی تسلیم کرلی اور رسول اﷲﷺ سے تحریری معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدہ کے تحت نجران کے عیسائیوں کو انتظامی اور مذہبی معاملات میں مکمل آزادی دی گئی۔ رسول اﷲﷺ نے حکم دیا کہ نجران کے عیسائی قرضوں پر سُود ادا نہ کریں بلکہ صرف اصل زر ہی اداکریں۔ فطری طورپر رسول اﷲﷺ نے ان سے یہ بھی کہا کہ وہ بھی مستقبل میں قرضوں پر سُود وصول نہ کریں۔ (یہ تحریری معاہدہ بھی اب تک محفوظ ہے۔)
یمن کے متعدد دوسرے قبائل نے بھی اپنے وفد مدینہ بھیجے اور اسلام قبول کیا۔یمن کا وسیع وعریض علاقہ تین سال کے اندر کسی جنگ کے بغیر اسلامی سلطنت کے زیرِ نگیں آگیا۔
عمان عرب کے جنوب مشرق میں ایک ریاست تھی جہاں جلندیٰ کے دوبیٹے جعفر اور عبد مشترکہ طورپرحکومت کرتے تھے۔ رسول اﷲﷺ کی دعوت پر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ چنانچہ رسول اﷲﷺ نے اپنے وعدہ کے مطابق دونوں کو عمان کی حکومت پر برقراررکھا۔ اس طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے یہ اشارہ بھی دے دیا کہ اسلام میں مشترکہ حکومت رَواہے، تاہم رسول اﷲﷺ نے عمان میں اپنا ایک نمائندہ مقررکردیا جو مسلمانوں کی تعلیم وغیرہ کی نگرانی کرتا تھا۔
عمان کا علاقہ اقتصادی لحاظ سے بڑا اہم تھا اس کی بینالاقوامی بندرگاہیں اور وہاں کے تجارتی میلے اسلامی مملکت کے لئے وقار اور قوت کا باعث بنے۔
عبدالقیسکا قبیلہ جعفرکی حکومت کے تحت نہ تھا بلکہ آزاد تھا کیونکہ انہوں نے اپنا وفد الگ سے رسول اﷲﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔ جس نے مدینہ سے پیغمبراسلامﷺ سے براہ راست مذاکرات کیے۔ وفد کے ارکان یہ جان کر ششدر رہ گئے کہ رسول اﷲﷺ ان کے ملک کا وسیع دورہ کرچکے ہیں اور (ظہور اسلام سے قبل) کافی عرصہ عمان میں گزارچکے ہیں۔رسول اﷲﷺ عمان کے بہت سے لو گوں کوذاتی طورپر جانتے تھے انہوں نے اہل وفد سے عمان کی تازہ خبریں بھی دریافت کیں۔بات چیت نہایت خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔
دبا کا علاقہ زبردست اقتصادی اہمیت کا حامل تھا۔ دبا اور مقشّر کے مقامات پر سالانہ تجارتی میلے منعقد ہو تے تھے۔جن میں کئی ممالک کے تجّار شریک ہوتے۔ دبا عرب کی دوبڑی بندرگاہوں میں سے ایک تھی۔ اس کے تجارتی میلہ میں عرب کے کونے کونے سے ہی نہیں بلکہ چینی ،ہندی ، سندھی اور مشرق ومغرب سے تاجر اپنا مالِتجارت لیکر شریک ہوتے تھے‘‘۔
جب یہ علاقہ غیر ملکی تسلط سے آزاد ہوگیا تو رسول اﷲﷺ نے دبا کا الگ گورنر مقرر کیا۔ یہ گورنر دبا کا رہنے والا ایک مسلمان تھا۔ اسکے فرائض میں دبا کی بندرگاہ، شہر اور منڈی کی دیکھ بھال شامل تھی۔
موجودہ بحرین جو خلیج عرب وفارس میں جزیرہ عرب کے مشرق میں واقع ہے ان دنوں اُوال کہلاتاہے۔ ان دنوں جس علاقے کو بحرین (بحران) کہتے تھے (بحرین کا لغوی ترجمہ دوسمندرہے) وہ سعودی عرب کا موجودہ ضلع الحساء ہے جو سعودی عرب کا ایک حصہ ہے۔غالباًظہورِ اسلام کے وقت اس علاقے میں موجود قطر بھی شامل تھا۔ قطر خلیج کو دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے اور یوں دوسمندروں کی تخلیق کا باعث بنتا ہے۔ بہرحال! اس علاقے(بحران یا بحرین) کے عرب گورنر المنذر ابن سادہ نے اسلام قبول کرلیا۔ وہ اسلامی حکومت کا نہایت پرجوش منتظم ثابت ہوا۔ تاریخ میں رسول اﷲﷺ کے نام پراس کے نصف درجن سے زائد خطوط کا ذکر آتاہے ان میں اک خط کا اصل ہم تک پہنچا ہے۔ یہ خط پہلی باربرلن کے ایک پبلشرZDMG نے شائع کیاتھا۔
شمال مشرقی عرب کے قبیلہ بنو تمیم نے نہایت آسانی سے اسلام قبول کرلیا۔ اس کے مزید شمال میں جنوبی عراق کا علاقہ بھی عربوں کا گہوارہ تھا ۔اس علاقے میں حیرہ(موجودہ کوفہ) کی ریاست سمیت عرب قبائل آباد تھے ۔ایرانی حکومت کی جنوبی اور مشرقی عرب میں جو نوآبادیات تھیں ان پر دارلحکومت مدائن کے قُرب وجوار کی آبادیوں کی نسبت حکومت کی گرفت کمزور تھی تاہم حیرہ کے حکمران قبیلہ بنولخم کے متعدد ذیلی قبائل نے اسلام قبول کرلیا۔ رسول اﷲﷺ کی طرف سے جو اسناد فراہم کی گئیں تاریخ میں ان کا ذکر ملتاہے۔
حیرہ(کوفہ) کے جنوب مشرق میں سماوہ کا علاقہ ہے۔ رسول اﷲﷺ کے ایک خط کا ذکر ملتاہے جو حضورﷺنے سماوہ کے فرمانروا اُنفاثہ الدیالی کے نام لکھا تھا تاہم اس خط کی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ یہ بادشاہ بھی عربیالنسل تھا اور اس امر کے قوی امکانات ہیں کہ اس نے ایرانیوں کی باجگزاری سے نجات پانے اور آزادی حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیا ہو، تاہم اس سلسلے میں کوئی یقینی بات کہنا ممکن نہیں۔
کیا رسولِاکرمﷺ کے ہندوستان سے کوئی تعلقات تھے؟ اس ضمن میں کچھ یقین سے تو نہیں کہا سکتا لیکن اسے ناممکن بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عر ب تجار ظہورِاسلام سے قبل ہی سندھ اور مالا بار کی بندرگاہوں پر بکثرت آتے جا تے تھے۔ ہندی تاجر بھی جنوب مشرقی عرب کی بین الاقوامی بندرگاہ دبا کے تجارتی میلے میں شرکت کرتے تھے(دیکھیے ابن حبیب کی المحبرّ، صفحہ625) اس امر کا بھی قومی امکان ہے کہ ہندی تاجر یمن بھی جاتے تھے(دیکھیے ابن ہشام صفحہ265) کیونکہ یمن کے حکمران سیف ابن ذی یزن نے ایک بار ایرانی شہنشاہ کواطلاع دی کہ اس کے ملک پر ’’.کوّوں‘‘ نے قبضہ جمالیا ہے اور اس کی امداد کی جائے۔ ’’کون سے کوّے؟‘‘کسریٰ نے وضاحت طلب کی ’’یہ ہندی کوّے ہیں یاحبشہ سے آئے ہیں؟‘‘شہنشاہِ ایران کے ذہن میں یہ سوال آہی نہیں سکتاتھا اگر یمن اور ہندکے درمیان مستحکم تعلقات نہ ہوتے..... جہاں تک دبا کاتعلق ہے رسول پاکﷺ خود وہاں جا چکے تھے(دیکھیے ابن حنبلؒ جلد 4،صفحہ206) ’’میں نے تمہارے ملک کا وسیع دورہ کیاہے‘‘ مصنف رسول اﷲ ﷺ کی دو احادیث کا تذکرہ کرتاہے جن کے مطابق رسول اﷲﷺ نے مشقّر اوربعض دوسرے علاقوں کا نام لیا جہاں کا وہ سفرکرچکے تھے)چنانچہ یہ کوئی تعجب خیز امر نہیں کہ جب یمن کے قبیلہ بل حارث کا وفد مدینہ گیا اور رسول اﷲﷺ نے پوچھا ’’یہ کون لوگ ہیں جو ہندی معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ (دیکھیے ابن ہشام صفحہ960 ۔ابنِسعد 2/1،صفحہ72، نسائی 41/25)۔ ابن حنبلؒ (229-6) کے مطابق ابوہریرہؓ جو یمنی النسل تھے اکثر کہا کرتے تھے ’’رسول اﷲﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہندوستان کی طرف ایک مہم بھیجی جائے گی اگر میں وہاں (ہندمیں) ہلاک ہوجاؤں تو میں بہترین شہداء میں سے ہوں گا اور اگر میں صحیح وسالم واپس آجاؤں تو میں وہی آزاد شدہ غلام ابوہریرہؓ رہوں گا۔ رسول پاک ﷺ سے ایک حدیث بھی منسوب کی جاتی ہے ،فر مایا’’مجھے ہندوستان کی طرف سے تازہ ہوا آتی ہے‘‘۔
رسول اﷲﷺ کی زندگی میں صرف ہندی لوگوں کا ہی نہیں ان کے مذہب کا بھی ذکر آیاتھا۔ قدیم مسلم مورخ عبدالکریم الجیلی اور دور حاضر کے پروفیسر مولانا مناظر احسن گیلانی نے بھی اس کا ذکر کیاہے۔
میں اس تعارف کو متبحّر عالم مولانا غلام آزاد بلگرامی (دیکھیے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام) کی دو تصانیف اول ان کی سوانحی لُغت ’’ سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان ’’ کا مقدمہ اور دوسری ’’شمامۃ العنبر فی ماوردعن الہندعن سید البشر‘‘ کے ذکر پر ختم کرتاہوں۔
ہندوستان کے جنوب مغربی ساحلی علاقہ مالابار میںیہ روایت مشہور ہے کہ اس علاقہ کے ایک بادشاہ چکرورتی فرما س نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھاتھا ۔یہ رسول اﷲﷺ کا معجزہ تھا جو مکہ مکرمہ میں ظہور پذیر ہوا، بادشاہ چکر ورتی فرماس نے اس سلسلے میں جب تحقیقات کیں تو اسے علم ہوا کہ عرب میں ایک پیغمبر کے ظہور کی پیشگوئیاں موجودہیں۔ اورشق القمر کا مطلب یہ ہے کہ وہ پیغمبرِ خدا ظاہر ہوچکاہے۔چنانچہ اس نے اپنے بیٹے کو اپنا جانشین مقررکیا اور خو د رسول اﷲﷺ سے ملاقات کے لئے عرب روانہ ہوگیا۔ اس نے رسول اﷲﷺ کے رُوبرو اسلام قبول کیا اور پھر ان کے حکم پرواپس ہندروانہ ہوگیا۔ راستے میںیمن کی بندرگاہ ظفار میں اس کا انتقال ہوگیا۔یہاں آج بھی ’’ہندی بادشاہ‘‘ کامزار مرجع خاص عوام ہے۔ انڈیا آفس لائبریری (لندن)میں ایک پرانا مسودہ (نمبر، عربی2807، ص۔173-152) ہے جس میں اس کی تفصیل درج ہے۔ زین الدین المعبری کی تصنیف ’’تحفہ المجاہدین فی بعد اخبار الپرتگالین‘‘ میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے( اس کتاب کا پرتگیزی ترجمہ انگریزی سے کہیں بہتر ہے مگر اس کا اردو ترجمہ نا مکمل ہے۔)
ترکی کے لوگوں کے بارے میں توبہت ہی کم مواد موجود ہے۔ علامہ بلاذری اپنی کتاب انساب الاشراف (485-1) میں روایت کرتے ہیں کہ کہ اسلام کی پہلی شہید خاتون سمیہّ عمار ابن یاسر کی والدہ تھیں۔انہیں ابوجہل نے شہید کیاتھا۔ انکا اصل نام پامیخ تھا اور ان کا تعلق ایران کے علاقہ کسگر سے تھا۔پامیخ کو جدید ترکی میں ’’پاموک‘‘ کہتے ہٰں جس کے لغوی معنی کپاس کے ہیں۔اور یہ کسی ترک خاتون کانام ہی ہوسکتاہے۔ خد ااس خاتون کے درجات بلندکرے۔ ہندوستان کی طرح ترکی میں بھی ایک شخص مقلاب ابن ملکان الخوارزمی گزراہے جس نے یکے از صحابہؓ رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔(دیکھیے ابن حجر،اصابہ۔2126)
چین کے بارے میں حضور اکرم کی ایک معروف حدیث ’’علم حاصل کرو خواہ اس کیلئے چین جانا پڑے‘‘ یہ یقین کرنے کی کافی وجوہ موجود ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی چینیوں سے ملاقات ہوئی تھی۔ حضور اکرم ﷺ نہ صرف ان کی استقامت سے متاثر ہوئے کہ وہ کئی ماہ تک سمندر میں سفر کرکے آئے تھے بلکہ ان کی مصنوعات کی عمدگی نے بھی رسول اﷲﷺ کو متاثرکیاتھا۔ ایک طرف تو مسعودی لکھتے ہیں(دیکھیے علامہ مسعودی کی ’’مروج الذہب‘‘308-1) کہ چینی ظہورِ اسلام سے قبل بڑی بڑی کشتیوں میں بحران (بحرین) اور عمان آتے تھے اور دوسری طرف ابن حبیب دبا کے تجارتی میلہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ یہ (دبا) عرب کی دوبڑی بندرگاہوں میں سے ایک تھی اور اس کے سالانہ تجارتی میلے میں ہند، سندھ،چین اور مشرق ومغرب سے تجار آتے تھے‘‘۔
چینی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے شاہِ چین کے دربار میں سفیر بھیجا تھا اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔ اس سفیر کا نام ابوعبیدہؓ تھا۔ وہ بعد میں دوبارہ چین گئے اور اسی جگہ ان کا انتقال ہوگیا۔ان کا مقبرہ سنگان فومیں ہے۔ (ان کے مقبرے میں تحریروں کے سلسلے میں ملاحظہ کیجیے وین لینگ وُوکی ’’مہذہبی کتبات‘‘ پیکنگ 1957، اور بروم مارشل کی ’’چین میں اسلام‘‘ ص۔90-83-66)
Labels:
Articles
Sunday, November 1, 2009
civic system
عہد نبوی کا شہری نظام


مدینہ منورہ کی شہری ریاست دس برس کے قلیل عرصہ میں ارتقاء کی مختلف منزلیں طے کرکے ایک عظیم اسلامی ریاست بن گئی، جس کے حدودِ حکمرانی شمال میں عراق و شام کی سرحدوں سے لے کر جنوب میں یمن و حضر موت تک، اور مغرب میں بحرِ قلزم سے لے کر مشرق میں خلیجِ فارس و سلطنتِ ایران تک وسیع ہوگئیں اور عملی طور سے پورے جزیرہ نمائے عرب پر اسلام کی حکمرانی قائم ہوگئی۔
اگرچہ شروع میں اسلامی ریاست کا نظم و نسق عرب قبائلی روایات پر قائم و استوار تھا تاہم جلد ہی وہ ایک ملکگیر ریاست اور مرکزی حکومت میں تبدیل ہوگئی۔ یہ عربوں کے لئے ایک بالکل نیا سیاسی تجربہ تھا کیونکہ قبائلی روایات اور بدوی فطرت کے مطابق وہ مختلف قبائلی، سیاسی اکائیوں میں منقسم رہنے کے عادی تھے۔ یہ سیاسی اکائیاں آزاد و خود مختار ہوتی تھیں جو ایک طرف قبائلی آزادی کے تصور کی علمبردار تھیں تو دوسری طرف سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجہ میں مسلسل سیاسی چپقلش، فوجی تصادم اور علاقائی منافرت کی بھی ذمہِدار تھیں۔ عربوں میں نا صرف مرکزیت کا فقدان تھا بلکہ وہ مرکزی اور قومی حکومت کے تصور سے بھی عاری تھے کہ یہ نظریات ان کی من مانی قبائلی آزادی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ وہ کسی ’’غیر‘‘ کی حکمرانی تسلیم ہی نہیں کرسکتے تھے۔ یہ رسول اکرمﷺ کا سیاسی معجزہ ہے کہ آپ نے مرکزیت دشمن قبائل عرب کو ایک سیسہ پلائی ہوئی قوم میں تبدیل کردیا اور ان کی ان گنت سیاسی اکائیوں کی جگہ ایک مرکزی حکومت قائم فرمادی جس کی اطاعت بدوی اور شہری تمام عرب باشندے کرتے تھے۔ اس کا سب سے بڑا بلکہ واحد سبب یہ تھا کہ اب ’’قبیلہ یا خون‘‘ کے بجائے ’’اسلام یا دین‘‘ معاشرہ و حکومت کی اساس تھا۔ اسلامی حکومت کی سیاسی آئیڈیالوجی اب اسلام اور صرف اسلام تھا۔ جن کو اس سیاسی نصب العین سے مکمل اتفاق نہیں تھا ان کے لئے بھی بعض اسباب سے اس ریاست کی سیاسی بالا دستی تسلیم کرنی ضروری تھی۔
اﷲ کے رسولﷺ نے جب راہِ ہجرت میں قدم رکھا تو آپﷺ کی زبانِ مبارک پر سورۂ بنی اسرائیل کی ایک آیت کثرت سے رہتی تھی:
ترجمہ: ’’اے اﷲ! (نئی منزل میں) صدق و صفا سے داخل کر اور جہاں سے نکالا ہے وہاں کا نکلنا بھی صِدق و صفا پر مبنی ہو۔ (نئی جگہ مجھے دین کے پھیلانے کے لئے) غلبہ عطا فرما۔(سورہ بنی اسرائیل:80)
چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے آپﷺ کی دعاقبول فرمائی ۔ اسلامی مملکت کے قیام کے لئے آپﷺ کو غلبہ عطا فرمایا۔ ابھی آپﷺ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان ہی میں قیام فرماتھے کہ آپﷺ نے میثاقِ مدینہ کا اہتمام کیا۔ اس غرض کے لئے آپﷺ نے مہاجرین، انصار، یہود، عیسائی اور دیگر قبائل کو جمع کیا۔ آپﷺ نے جو کچھ گفتگو فرمائی اُس کے بعد آپﷺ نے اس موقع پر ایک تحریر لکھوائی۔ ابتدائی مؤرخین نے اسے صحیفہ کا نام دیا ہے..... یہ حکمرانِ وقت کا ایک فرمان تھا، ساتھ ہی تمام لوگوں کا اقرار نامہ بھی تھا جس پر اُن لوگوں کے دستخط تھے۔ اس میں مسلمان اور مشرکین دونوں شریک تھے۔ ڈاکٹر حمید اﷲ نے اسے پہلا تحریری دستور قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر حمید اﷲ لکھتے ہیں ’’مدینہ میں ابھی نراج کی کیفیت تھی اور قبائلی دور دورہ تھا، عرب اوس اور خزرج کے بارہ قبائل میں بٹے ہوئے تھے تو یہودی بنو النضیر و بنوقریظہ وغیرہ کے دس قبائل میں، ان میں باہم نسلوں سے لڑائی جھگڑے چلے آرہے تھے، اور کچھ عرب، کچھ یہودیوں کے ساتھ حلیف ہو کر باقی عربوں اور ان کے حلیف یہودیوں کے حریف بنے ہوئے تھے۔ ان مسلسل جنگوں سے اب دونوں بھی تنگ آچکے تھے اور گو وہاں کے کچھ لوگ غیر قبائل خاص کر قریش کی جنگی امداد کی تلاش میں تھے۔ لیکن شہر میں امن پسند طبقات کو غلبہ ہورہا تھا اور ایک کافی بڑی جماعت اس بات کی تیاری کررہی تھی کہ عبداﷲ بن ابی بن سلول کو بادشاہ بنادیں، حتی کہ بخاری و ابن ہشام وغیرہ کے مطابق اس کے تاجِ شہریاری کی تیاری بھی کاریگروں کے سپرد ہوچکی تھی۔ بلاشبہ حضورﷺ نے بیعتِعقبہ میں بارہ قبائل میں بارہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے نقیب مقرر کرکے مرکزیت پیدا کرنے کی کوشش فرمائی تھی، مگر اس سے قطع نظر وہاں ہرقبیلے کا الگ راج تھا، اور وہ اپنے اپنے سقیفے یا سائبان میں اپنے امور طے کیا کرتا تھا، کوئی مرکزی شہری نظام نہ تھا۔ تربیت یافتہ مبلغوں کی کوشش سے تین سال کے اندر شہر میں معتدبہ لوگ مسلمان ہوچکے تھے، مگر مذہب ابھی تک خانگی ادارہ تھا۔ اس کی سیاسی حیثیت وہاں کچھ نہ تھی، اور ایک ہی گھر میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے تھے۔ ان حالات میں حضورﷺ مدینہ آتے ہیں، جہاں اس وقت متعدد فوری ضرورتیں تھیں:
-1اپنے اور مقامی باشندوں کے حقوق و فرائض کا تعین۔
-2 مہاجرین مکہ کے قیام اورگزربسر کا انتظام۔
-3 شہر کے غیر مسلم عربوں اور خاص کر یہودیوں سے سمجھوتہ۔
-4 شہر کی سیاسی تنظیم اور فوجی مدافعت کا اہتمام۔
-5 قریش مکہ سے مہاجرین کو پہنچے ہوئے جانی و مالی نقصانات کا بدلہ۔
ان ہی اغراض کے مدّنظر حضورﷺ نے ہجرت کرکے مدینہ آنے کے چند مہینہ بعد ہی ایک دستاویز مرتب فرمائی جسے اسی دستاویز میں کتاب اور صحیفہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ جس کے معنی دستور العمل اور فرائضنامہ کے ہیں۔ اصل میں یہ شہر مدینہ کو پہلی دفعہ شہری ملکیت قرار دینا اور اس کے انتظام کا دستور مرتب کرنا تھا‘‘۔ (ڈاکٹر حمید اﷲ کی بہترین تحریریں۔ مرتبہ: قاسم محمود۔ صفحہ 253)
اس میثاق کے بنیادی نکات یہ تھے.....
-1 آبادیوں میں امن و امام قائم رہے گا تا کہ سکون سے نئی نسل کی تربیت کی جاسکے۔
-2 مذہب اور معاش کی آزادی ہوگی۔
-3 فتنہ و فساد کو قوت سے ختم کیا جائے گا۔
-4 بیرونی حملوں کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔
-5 حضورِ اکرمﷺ کے حکم کے بغیر کوئی جنگ کے لئے نہ نکلے گا۔
-6 میثاق کے احکام کے بارے میں اختلاف پیدا ہو تو اﷲ کے رسولﷺ سے رجوع کیا جائے گا۔
اس معاہدے میں مسلمانوں، یہودیوں اور مختلف قبیلوں کے لیے، الگ الگ دفعات مرقوم ہیں۔ یہ اصل میں مدینہ کی شہری مملکت کے نظم و نسق کا ابتدائی ڈھانچہ تھا۔ یہاں واضح طور پر یہ بات ذہن میں رہے کہ حضوراکرمﷺ یونان کی شہری ریاستوں کی طرح کوئی محدود ریاست قائم کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ آپﷺ نے ایک عالمگیر مملکت کی بنیاد ڈالی تھی جو مدینہ کی چند گلیوں سے شروع ہوئی اور روزانہ 900کلو میٹرکی رفتار سے پھیلتی ہوئی اُس وقت دس لاکھ مربع میل کی مملکت تھی جب اﷲ کے رسولﷺ نے دنیا سے پردہ فرمایا۔(محمد رسول اللہﷺ۔ ڈاکٹر حمید اللہ) پھر اس عالمگیر مملکت کے تصور کو سیدنا ابوبکرصدیقؓ اور سیدنا عمر بن خطابؓ نے آگے بڑھایا اور سوبرس کے اندر اندر یہ تین براعظموں میں پھیل گئی۔
اس میثاق یعنی صحیفہ میں بلدیاتی نظام کے تعلق سے حسبِ ذیل اُمور سامنے آتے ہیں:
-1 امن و امان کا قیام
-2 تعلیم وتربیت کی سہولتیں
-3 روزگار، سکونت اور ضروریاتِ زندگی کی فراہمی
قرآنِ حکیم نے بار بار نشاندہی کی ہے کہ انسان آدم وحوا کی اولاد ہیں اور زمین پر اﷲ کا کنبہ ہیں۔ انسان فطرتاً مل جل کر رہنا چاہتا ہے۔ دُنیا اور دنیا کے تمام وسائل ہمارے فائدہ کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، اس لئے صاف سیدھا طریقہ یہ ہے کہ ہم اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ فرائض اور حقوق کی ایک بڑی تفصیل ہمارے سامنے ہے۔ معلم کتاب و حکمتﷺ ان کی تشریح اور ان کی تفصیل بیان فرما چکے ہیں۔ آےئے!دیکھیں بلدیاتی نظام سے متعلق ہماری رہنمائی کے لیے سیرت نبویﷺ سے کیا اصول ملتے ہیں۔
شہری نظام کے بارے میں اﷲ کے آخری رسول حضرت محمد رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو ایک ہدایت دی کہ..... اپنے شہروں کو بہت پھیلنے نہ دینا!.....
Rehabilitation آبادکاری
ہجرت کے حکم کے بعد مدینہ میں مہاجرین کا سیلاب اُمڈ پڑا تھا اورآخر کار مدینہ میں مقامی باشندوں کے مقابلہ میں مہاجرین کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی۔(صحیح بخاری۔ابواب ہجرات) ان نوواردوں کی آبادکاری کے متعلق حضورپاکﷺ نے شروع دن ہی سے ایک جامع منصوبہ تیار کرلیا تھا۔ اس منصوبہ کی جزئیات کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے رسول اﷲﷺ نے نوآبادی (کالونائزیشن) اور شہری منصوبہ بندی (ٹاؤن پلاننگ) میں عظیم انقلاب برپا کردیا تھا۔ نوواردوں کی اتنی بڑی تعداد کو اتنے محدود وسائل میں رہائش اور کام کی فراہمی کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ پھر مختلف نسلوں، طبقوں، علاقوں اور مختلف معاشرتی و تمدنی پس منظر رکھنے والے لوگ مدینہ میں آ آکر جمع ہورہے تھے۔ ان سب کو سماجی لحاظ سے اس طرح جذب کرلینا کہ نہ ان میں غریب الدیاری اور بیگانگی کا احساس اُبھرے، نہ مدینہ کے ماحول میں کوئی خرابی پیدا ہو اور نہ قانون شکنی اور اخلاقی بے راہ روی کے رجحانات جنم لیں..... جیسا کہ عام طور پر ایسے حالات میں ہوتا ہے..... رسول کریمﷺ کا ایسا زندہ جاوید کارنامہ ہے جو ماہرینِ عمرانیات کے لیے خاص توجہ اور مطالعہ کا مستحق ہے۔ جدید شہروں میں آبادی کے دباؤ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ تمدنی، سیاسی اور اخلاقی مسائل سے نمٹنے کے لیے سیرت النبیﷺ سے ماہرین آج بھی بلاشبہ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کو سب سے پہلے رسالتمآبﷺ نے اس راز سے آگاہ کیا کہ محض سنگ و خشت کی عمارات کے درمیان میں کوچہ و بازار بنا دینے کا نام شہری منصوبہ نہیں بلکہ ایسا ہم آہنگ اور صحتمند تمدنی ماحول فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے جو جسمانی آسودگی ، رُوحانی بالیدگی، ذہنی اطمینان اور قلبی سکون عطا کرکے اعلیٰ انسانی اقدار کو جنم دے اور تہذیبِ انسانی کے نشوونما کا سبب بن سکے۔
مدینہ کی اسلامی ریاست کے قیا م کے بعددارالخلافہ کی تعمیر کے لئے موزوں جگہ کا انتخاب اور اس غرض کے لئے وسیع قطعہ اراضی پہلے ہی حاصل کرلیا گیا تھا۔ مسجد اور ازواجِ مطہراتؓ کے لئے مکانات بن جانے کے ساتھ دارالخلافہ کی تعمیر کا پہلا مرحلہ تکمیل کو پہنچا۔ دوسرے مرحلہ کا آغاز نو وارد مہاجرین کی اقامت اور سکونت کے مختصر مکانات (کوارٹرز) کی تعمیر سے کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ تعمیرات کے اس دو مرحلہ جاتی منصوبے پر ایک سال یا اس سے کچھ زائد عرصہ لگ گیا۔
مدینۃ الرسول، ایک لحاظ سے ’’مہاجر بستی‘‘ تھی۔ گوسارے مہاجر وہاں اقامت نہ رکھتے تھے۔(طبقات ابن سعد) ہوسکتا ہے جب مدینہ کی آبادی بڑھی ہو تو مکانات اور تعمیرات کا سلسلہ پھیل کر عہدِ رسالت مآبﷺ ہی میں قریب کی آبادیوں بنی ساعدہ، بنی النجار وغیرہ سے مل گیا ہو ورنہ ریاست کی پالیسی یہ تھی کہ مدینہ کی کالونی میں صرف مہاجرین کو بسایا جائے۔ عوالی میں رہنے والے بنو سلمہ کے قبیلے نے جب مدینہ آکر آباد ہونے کی درخواست کی تو آپﷺ نے اسے نامنظور کردیا اور انہیں اپنے قریہ ہی میں رہنے کی ہدایت کی۔ ریاست کی نوآبادی اسکیم کا یہ بھی ایک اہم حصہ تھا کہ اﷲ کی راہ میں وطن چھوڑ کر مدینہ آنے والے لُٹے پٹے، بے سرو سامان اور بے یارو مدد گار مہاجروں کے قافلوں کو جائے رہائش سرکاری طور پر فراہم کی جائے بلکہ ان نوواردوں کو سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرایا جاتا اور ان کے کھانے اور دیگر ضروریات کا انتظام بھی سرکاری طور پر کیا جاتا۔ بعد ازاں ان لوگوں کو مستقل رہائش کے لیے جگہ یا مکان مہیا کرنا بھی حکومت کا فرض تھا۔ گویا مہاجرین کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی اسلامی حکومت کے سپرد تھی اور اسلامی حکومت اس بہت بھاری ذمہ داری سے مالی عُسرت اور اقتصادی وسائل کے فقدان کے باوجود، خوش اسلوبی سے عہدہ برا ہوئی۔
مہاجرین کی عارضی رہائش کا انتظام مسجد کے اندر کیمپ لگا کر یا صفہ میں کیا جاتا۔ اگر مہاجرین کی تعداد زیادہ ہوتی یا قافلہ پورے قبیلے پر مشتمل ہوتا تو انہیں عموماً شہر کے باہر خیموں میں ٹھہرایا جاتا..... تاآں کہ مستقل رہائش کا معقول انتظام نہ ہوجاتا.....
آباد کاری کے دو طریقے اختیار کیے گئے، اولاً یا تو کسی ذی ثروت انصاری مسلمان کو کہہ دیا جاتا کہ وہ ایک مہاجر کی رہائش کا اپنے ہاں انتظام کرلے۔ مگر خیال ہے کہ صرف شروع کے ایام میں ایسا کیا گیا جب کہ اسلامی ریاست صحیح طرح صورت پذیر نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی منظم تھی۔
مہاجروں کو ٹھہرانے کے لئے عموماً بڑے بڑے مکانات تعمیر کیے گئے۔ کنواروں کے لئے ایسے مکانات علیحدہ تھے اور شاید عیال داروں کے لیے علیحدہ۔ یہ مکانات کئی کمروں پر مشتمل تھے ایک کمرہ ایک خاندان کو دیا جاتا۔ البتہ ایسے مکانات میں باورچی خانہ وغیرہ مشترکہ ہوتا۔ اندازہ ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے مدینہ کی کالونی میں سرکاری طور پر علیحدہ رہائش کے لئے جو مکانات بنوائے وہ تین کمروں کے تھے۔ (ماخوذازادب المفرد۔ امام بخاری)
توسیع شہر: تعمیرات کا سلسلہ ایک عرصہ تک تواترکے ساتھ جاری رہا۔ یہاں تک کہ بنی قینقاع کے اخراج 3ہجری کے بعد مکانات کی خاصی تعداد مسلمانوں کے ہاتھ آجانے کے سبب رہائشی قلت بہت حد تک دُورہوگئی مگر یہ مسئلہ ختم نہ ہوا کیونکہ رہائشی سہولتوں کے مقابلے میں نواردوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی اور اس میں روز بروز اضافہ ہورہاتھا اس لئے 2ہجری (بنی قریظہ کی فتح ) تک یہ مسئلہ سنگین نوعیت کا تھا۔ اس کے بعد اسلامی حکومت کے آمدنی کے وسائل بھی پیداہوگئے،مسلمانوں کی اقتصادی حالت بھی قدرے سنبھل گئی،یہودیوں کے بہت سے مکانات بھی مل گئے لہٰذا معاملہ کی سنگینی بڑی حد تک کم ہوگئی تاہم آبادکاری کا کام فتح مکہ اور اس کے بعد بھی جاری رہا۔ فتح کے ساتھ ہی چونکہ ہجرت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا اسلئے مدینہ میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ رُک گیا۔تاہم کئی لوگ بعدازفتح مکہ بھی مدینہ میںآکر آباد ہوئے اور حصول تعلیم وغیرہ کے لئے آنے والوں کا بھی تانتابندھارہا۔(عہد نبوی کا نظامِ تعلیم۔ڈاکٹر حمید اﷲ)
عہد نبویﷺ کے اواخرمیں مدینہ کا شہر مغرب میں بطحان تک ، مشرق میں بقیع الفرقد تک ،اورشمال مشرق میں بنیساعدہ کے مکانات تک پھیل چکا تھا اور رسول اﷲﷺ نے اب وہاں مزید مکانات تعمیر کرنے سے روک دیا۔ شہری منصوبہ بندی کے ضمن میں حضوراکرم ﷺ کا یہ اقدام زبردست اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ وہی کرسکتے ہیں جنہیں جدید صنعتی شہروں کے اخلاق باختہ اور انتشار انگیز معاشرے کاقریبی مطالعہ کرنے کا موقع ملاہے، آپﷺ نے شہرِنو(مدینہ) کو ایک خاص حد سے متجاوزنہ ہونے دیااور اس شہر کی زیادہ سے زیادہ حد پانچ سو ہاتھ مقرر کی اورفرمایا کہ شہر کی آبادی اس حد سے بڑھ جائے تو نیا شہر بسائیں اورآپ ﷺنے اپنی زندگی میں ہی اس اصول پر عمل کرتے ہوئے دو اقدام کیے ، ایک یہ کہ اضافی آبادی کو یا تو اور زمینوں میں منتشر کرنے کا حکم جاری کیا تاکہ اس طرح ایک طرف زرعی انقلاب بر پا کیا جاسکے اور دوسری طرف نئے لوگوں کی رہائش کے لیے گنجائش نکالی جا سکے۔ دوسرے یہ کہ قریظہ ونضیر کی مفتوحہ بستیوں یا جوفِمدینہ کے دیگر قریوں میں پھیلادیا تاکہ ایک جانب معاشرتی ناہمواریاں پیدا ہونے کے امکانات ختم ہوجائیں اور دوسری طرف صحت مند اور تعصبات سے پاک معاشرت تخلیق کی جاسکے۔ اس میں مبالغہ نہیں ہے کہ رسالتمابﷺ نے اپنے مقاصد میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی۔(نسائی: کتاب الصلوٰۃ)
آج کل کچھ مغربی ممالک میں ٹاؤن پلاننگ کے انہی زرّیں اصولوں پر جنہیں رسول اﷲ نے چودہ سوسال پہلے آزمایا تھا عمل کرکے معاشرتی ہیجان اور تہذیبی انتشارکی شدت کو کم کرنے میں ایک حد تک نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
مدینہ کی شہری ریاست :
موجودہ دور میں شہری حکومت کے مقاصد کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں۔
-1شہر کی گلیوں اور شاہراہوں کا بندوبست ، مارکیٹوں کی تعمیر ، رہائشی انتظامات۔
-2پینے کے پانی کی فراہمی اور تقسیم
-3گندے پانی کی نکاسی ، کوڑے کرکٹ کے پھینکوانے کا بندوبست
-4تعلیم ، علاج ، دیگر فلاحی اداروں ، کھیل کے میدانوں کاقیام۔
-5چمن بندی اور شہر کی خوب صورتی اور تفریح گاہوں کاانتظام۔
-6ان کاموں کے لئے مالی وسائل اور کاموں کا احتساب۔
حضور پاکﷺ کی احادیث سے ہمیں بلدیاتی نظام کے بہت سے اُصول ملتے ہیں۔ جہاں تک محکمۂ احتساب کا تعلق ہے فارابی ، ماوردی اور طوسی اس کی موافقت میں ہیں۔ماوردی نے محکمۂ احتساب کی خصوصیا ت کے بارے میں لکھاہے کہ یہ محکمہ انصاف اور محکمہ پولیس کے درمیان ایک محکمہ ہے۔ محتسب کا فریضہ یہ ہے کہ اچھے کام جاری کرے اور بُرے کاموں کو روکے ۔قرآنی اصطلاح ، معروف کی تین قسمیں ہیں۔
-1حقوق اﷲ
-2حقوق العباد
-3وہ اعمال و افعال جن کا تعلق دونوں سے ہو۔
مدینۃ النبی میں یہ کام اﷲ کے رسول ﷺ خود انجام دیتے تھے۔ حضور سرورِ کائنات ﷺ مدینے کے بازاروں میں نکلتے توجگہ جگہ رُک کرناپ تول کر پیمانے دیکھتے۔ چیزوں میں ملاوٹ کا پتہ لگاتے۔ عیب دار مال کی چھان بین کرتے۔گراں فروشی سے روکتے۔ استعمال کی چیزوں کی مصنوعی قلت کا انسداد کرتے۔ اس ضمن میں سیدنا حضرت عمرؓ ، حضرت عبیدؓ بن رفاعہ، حضرت ابو سعید خدریؓ ، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ ،حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت انسؓ، حضرت ابوامامہؓ، حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت علیؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کی بیان کردہ حدیثیں اصولوں کا تعین کرتی ہیں۔
بلدیاتی نظام میں سب سے اہم سڑکوں ، پُلوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کے علاوہ نئی شاہراہوں کی تعمیر اور آئندہ کے لئے اُن کی منصوبہ بندی کاکام ہوتاہے۔ بعض لوگ ذاتی اغراض کے لئے سڑکوں کوگھیر لیتے ہیں۔ بعض مستقل طورپر دیواریں کھڑی کرلیتے ہیں۔ فقہ اسلامی میں اس کے بارے میں واضح احکام ملتے ہیں۔صحیح مسلم کی ایک روایت ہے حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ’’اﷲ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم راستے میں اختلاف کرو تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ ہوگی۔ اس سے کم گلی بھی نہیں ہوسکتی۔‘‘
حضور اکرم ﷺ نے سڑکوں پربیٹھنے ، تجاوزات کھڑی کرنے ،سڑکوں پرگندگی ڈالنے سے روکا ہے۔ آپﷺ نے سڑکوں پر سے رکاوٹ کی چھوٹی موٹی چیز کو ہٹا دینے کو صدقہ قرار دیا ہے۔ سڑکوں پر سایہ دار درخت لگانے کا حکم ہے۔ ابو اللیث سمر قندی اپنے ایک فتوے میں لکھتے ہیں کہ ’’ کسی سمجھ دار آدمی کے لئے یہ بات زیبا نہیں کہ وہ راستے پر تھوکے یا ناک صاف کرے یا کوئی ایسا کام کرے جس سے سڑک پر پیدل چلنے والے کے پاؤں خراب ہوجائیں۔ اسلام کا قانونِ حق آسائش اس با ت کی اجازت نہیں دیتا کہ سڑ ک پر کوئی عمارت بنائی جائے۔ ‘‘ راستے پر تصرف کسی کام کے لئے جائز نہیں ۔ تجاوزات کھڑی کرنے اور ریڑے لگانے والے اگر راستہ روکیں تو حکم ہے کہ اُن سے مال نہ خریدا جائے۔
موجودہ دور میں ایک اہم مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ اس کے بارے میں تعلیمات نبوی ﷺ سے احکام ملتے ہیں۔ سڑکوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے اور راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے سے اﷲ کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔ آپ ﷺنے جانوروں تک کے لیے راستے کی آزادی برقرار رکھی۔ مدینے کی شہر ی مملکت میں پینے کے پانی کا انتظام یہودیوں سے کنوئیں خرید کر کیا گیا ۔قبل از اسلام مدینے کی گلیوں میں گندے پانی کی نکاسی کا انتظام نہ تھا۔ بیتالخلا کا اس زمانے میں رواج نہ تھا لیکن مسلمانوں کی آمد کی وجہ سے جب شہروں کی آبادی بڑھنے لگی تو پھر ان مسائل کا حل تلاش کیا گیا۔
شہر میں پینے کے پانی کی بہم رسانی کا سرکاری طورپر انتظام کیا گیا۔ مدینہ میں پینے کے لئے میٹھے پانی کے کنویں اور چشمے بمشکل دستیاب ہوتے ۔ حضرت عثمانؓ نے جو خود بھی مدینہ کی نو آبادی میں رہتے تھے آنحضور ﷺ کے حکم کے مطابق اہلیانِ مدینہ کے لئے یہودیوں سے میٹھے پانی کا کنواں بیرِ رومہ خرید کر وقف کردیا۔ (صحیح بخاری: باب فضائل)
اسلام جسم وجان کی پاکیزگی اور ظاہر وباطن کی صفائی پر بہت زیادہ زور دیتاہے۔ وضو ، طہارت ،غسل کے احکامات اسی سلسلے کی کڑیاں اور تکمیلی مراحل تھے۔ آپﷺ نے مسجدیں بنا کر وہاں طہارت خانے تعمیر کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اسلام کے عمومی مزاج اور آپﷺ کے اس فرمان کے بعد گھر گھر غسل خانے بن گئے۔ ہر مسجد کے ساتھ طہارت خانے تعمیر کیے گئے۔ (ابن ماجہ)
ہمسائے کے حقوق کے بارے میں رسول اکرمﷺ کے جو ارشادات ملتے ہیں اُن پر عملدرآمدسے انسانی معاشرے کے کئی مسائل حل ہوجاتے ہیں۔صحیح مسلم میں حضرت انسؓ بن مالک کی روایت ہے کہ’’ کوئی مسلمان ،مسلما ن نہیں ہے جب تک وہ اپنے ہمسائے کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتاہے۔ ‘‘
اس ایک ار شاد مقدسہ میں صفائی ستھرائی، صحت ، شائستگی ، خوش خلقی ،صلح جوئی ،ہمدردی ،ایثار اتنی ساری باتیں آتی ہیں کہشہری زندگی کے تمام ضوابط کی عمدگی سے پابندی ہوسکتی ہے۔
ہجرت سے قبل مدینہ میں ناجائز تصرفات عام تھے۔رسول اﷲﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمادیا۔ گلی یا کوچے کی کم سے کم چوڑائی ۔ جھگڑاہوجانے کی صورت میں سات ہاتھ (ذارع) مقررکی۔(صحیح مسلم) جو فِ مدینہ کی آبادیوں میں گلیاں عام طورپر تنگ ہوتی تھیں اس لئے مدینہ میں بھی کوچے تنگ مگر سیدھے تھے۔ باوجود یہ کہ آپﷺ کا اور دیگر صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے مکانات مختصر تھے مگر آپﷺ نے کشادہ مکانات کو پسند کیا اور فرمایا کہ خوش بخت ہے وہ شخص جس کی جائے رہائش وسیع اور پڑوسی نیک ہو۔ ( امام بخاری ۔ادب المفرد)
حفظانِ صحت کا خیال رکھنا اسلامی زندگی کا بنیادی نظریہ ہے۔صفائی اور پاکیزگی کو اسلام نے نصف ایمان کا درجہ دیاہے۔ گھر، گھرکے باہر کا ہر مقام، اپنے جسم ، اپنے کپڑوں کی پاکی کاحکم بار بار آیا ہے۔ مسجدوں کوپاکیزگی کے نمونے کے طورپر پیش کیا گیا ہے۔ سرکاری عمارتوں کو پاک صاف رکھنے کاحکم آیاہے۔ احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ بعض بدوی مسجد نبوی کی دیواروں پر تھوک دیتے تو اﷲ کے رسول ﷺ اپنے ہاتھوں سے اُ س جگہ کو صاف کرتے تھے۔ وضو اور غسل کا نظام، غلاظت سے صفائی کے احکام ، چوپال ،کھلیانوں کی جگہ، دریاؤں کے کنارے اور تفریح کے مقامات کو پاک وصاف رکھنا حفظانِ صحت کے اُصولوں کے مطابق بھی ہے اور یہ شائستگی کا اظہار بھی ہے۔
حفظانِ صحت ہی کے اصولوں کے تحت بلدیاتی نظام میں کھانے پینے کی چیزوں کے خالص ہونے پرزور دیا گیا ہے۔ ملاوٹ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں اور عذاب کی وعید ہے۔ پینے کے پانی کو صاف رکھنے اور گندے پانی کی نکاسی کے احکام اس عنوان کے تحت بھی آتے ہیں۔ اسی عنوان سے متعلق بیماریوں کے علاج کی سہولتیں بھی ہیں۔ ان میں وباؤں کے خلاف حفاظتی تدابیر اور بروقت ان کے انسداد کی ذمہ داری شہری حکومت پر ہے۔ مکانات ہودار اور روشن رکھنے کے احکام اسلام میں موجود ہیں۔
سایہ ،چمن بندی، عوامی تفریح گاہوں کا انتظام بھی عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔ مثلا سورۂ عبس میں ارشادربانی ہے کہ’’ ہم نے (زمین )میں سے انا ج اگایا اور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے گھنے باغ اور میوے اور چارا (یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لئے بنایا ہے۔‘‘(سورۂ عبس:آیت 32-27)
ہجرت کے وقت مدینہ باغوں کی سرزمین کہلاتاتھا اور یہاں کے لوگ باغات کے بہت شوقین تھے۔ رسالتمآبﷺ نے شہر اور مسجد کی تعمیر کے وقت یہ کوشش کی کہ وہاں موجود کھجور کے درختوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔مسجد النبیﷺ کے دروازے کے قریب کھجور کے درختوں کا ذکر کتب احادیث میں ملتاہے جہاں غسل خانہ اور طہارت خانہ بھی تھا اور کنواں بھی اسی جگہ تھا۔ مسجد النبیﷺ کے بڑے دروازے کے بالمقابل حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کا وسیع وشاداب باغ بیرحاء تھا جہاں حضورپاکﷺ اکثر تشریف لے جاتے۔(صحیح بخاری، نسائی، ابن ماجہ)
مدینہ میں نکاس�ئ آب کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا کیونکہ شہر اونچی ڈھلوانی جگہ پر تھا۔ اگر کہیں سے کوئی پہاڑی ندی نالہ گزرتاتھا تووہاں پُشتے باندھ کر عمارا ت اور تعمیرات کو محفوظ بنادیاگیا تھا۔
ہجرت کے بعد مدینہ میں خرید وفروخت کی سہولت کے لئے علیحدہ منڈی یا بازار بنایا گیا۔ خیال یہ ہے کہ یہ منڈی بنی قینقاع کے اخراج (3ہجری) کے بعد قائم ہوئی ہوگی کیونکہ اس سے پیشتر عبدالرحمان بن عوف اوردوسرے تجارت پیشہ مسلمان اپنا کاروبار قینقاع کے بازار میں کرتے تھے۔(صحیح مسلم)
مدینہ کا بازار مسجد النبیﷺ سے کچھ زیادہ فاصلے پرنہ تھا۔ بازار خاصا وسیع وعریض تھااور اخیر عہد نبویﷺ میں نہایت بارونق اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا۔تجارت کے فروغ کے لیے جناب رسالتمآب ﷺ نے زبردست کوششیں کیں جس میں سب سے اہم آپﷺ کا یہ فرمان تھا کہ ’’ مدینہ کی منڈی میں کوئی خراج نہیں ہے۔‘‘ (فتوح البلدان ۔ بلاذری)
زمانہ جاہلیت میں خفارہ کا نظام اور قدم قدم پر محصول چنگی کی وجہ سے تجارت میں بڑی رکاوٹیں تھیں۔ آپﷺ نے مختلف سیاسی اور عسکری مصالح کے پیش نظر یہ حکم صادر فرمایا جو دوررَس نتائج کا حامل تھا، اور دراصل اس طرح آپﷺ نے صرف چنگی کی لعنت ہی ختم نہ کی بلکہ جزیرۃ العرب کی تسخیر کے بعد تمام ملک میں،مدینہ کی طرح آزادانہ درآمدات اور برآمدات کی اجازت دے کر بین الاقوامی آزادتجارت کی داغ بیل ڈالی اور جدید تحقیقات نے اس بات کا ناقابل تردید ثبوت فراہم کردیا ہے کہ آزاد بین الاقوامی تجارت نا صرف اقوام ملل کے لئے بلکہ پوری نوعِ بشر کی مادی ترقی کے لئے ضروری ہے جس کے ذریعے بین الاقوامی طورپر اشیاء کی قیمتیں متوازن رکھ کر عوام کو فائدہ بھی پہنچایا جاسکتا ہے اور اقوام بھی خوشحال بن سکتی ہیں۔
تعلیمی اداروں کا قیام : حضورپاکﷺ نے منجملہ اور باتوں کے تعلیم پر بڑا زور دیا ہے۔تاریخ اسلام میں پہلا نصابِ تعلیم رسول اﷲﷺنے ہی ترتیب دیا۔اﷲ کے رسول ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت ایک چبوترہ بنا کر اسلام کی پہلی اقامتی درسگاہ کی بنیاد ڈالی تھی جہاں آپﷺ خود درس دیا کرتے تھے۔ اپنے دورخلافت میں حضرت عمرؓ نے ہر مسجد میں مکتب قائم کرکے اُن کی نگہداشت و اخراجات کا ذمہ دار بھی حکومت کو بنایا۔آج دورجدید میں شہری حکومت کی ذمہ داریوں میں تعلیم کی اشاعت اور فنون کی تربیت بھی شامل ہے۔
اﷲ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ علم انبیاء کا ورثہ ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ جہاں سے ملے لے لیں۔


مدینہ منورہ کی شہری ریاست دس برس کے قلیل عرصہ میں ارتقاء کی مختلف منزلیں طے کرکے ایک عظیم اسلامی ریاست بن گئی، جس کے حدودِ حکمرانی شمال میں عراق و شام کی سرحدوں سے لے کر جنوب میں یمن و حضر موت تک، اور مغرب میں بحرِ قلزم سے لے کر مشرق میں خلیجِ فارس و سلطنتِ ایران تک وسیع ہوگئیں اور عملی طور سے پورے جزیرہ نمائے عرب پر اسلام کی حکمرانی قائم ہوگئی۔
اگرچہ شروع میں اسلامی ریاست کا نظم و نسق عرب قبائلی روایات پر قائم و استوار تھا تاہم جلد ہی وہ ایک ملکگیر ریاست اور مرکزی حکومت میں تبدیل ہوگئی۔ یہ عربوں کے لئے ایک بالکل نیا سیاسی تجربہ تھا کیونکہ قبائلی روایات اور بدوی فطرت کے مطابق وہ مختلف قبائلی، سیاسی اکائیوں میں منقسم رہنے کے عادی تھے۔ یہ سیاسی اکائیاں آزاد و خود مختار ہوتی تھیں جو ایک طرف قبائلی آزادی کے تصور کی علمبردار تھیں تو دوسری طرف سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجہ میں مسلسل سیاسی چپقلش، فوجی تصادم اور علاقائی منافرت کی بھی ذمہِدار تھیں۔ عربوں میں نا صرف مرکزیت کا فقدان تھا بلکہ وہ مرکزی اور قومی حکومت کے تصور سے بھی عاری تھے کہ یہ نظریات ان کی من مانی قبائلی آزادی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ وہ کسی ’’غیر‘‘ کی حکمرانی تسلیم ہی نہیں کرسکتے تھے۔ یہ رسول اکرمﷺ کا سیاسی معجزہ ہے کہ آپ نے مرکزیت دشمن قبائل عرب کو ایک سیسہ پلائی ہوئی قوم میں تبدیل کردیا اور ان کی ان گنت سیاسی اکائیوں کی جگہ ایک مرکزی حکومت قائم فرمادی جس کی اطاعت بدوی اور شہری تمام عرب باشندے کرتے تھے۔ اس کا سب سے بڑا بلکہ واحد سبب یہ تھا کہ اب ’’قبیلہ یا خون‘‘ کے بجائے ’’اسلام یا دین‘‘ معاشرہ و حکومت کی اساس تھا۔ اسلامی حکومت کی سیاسی آئیڈیالوجی اب اسلام اور صرف اسلام تھا۔ جن کو اس سیاسی نصب العین سے مکمل اتفاق نہیں تھا ان کے لئے بھی بعض اسباب سے اس ریاست کی سیاسی بالا دستی تسلیم کرنی ضروری تھی۔
اﷲ کے رسولﷺ نے جب راہِ ہجرت میں قدم رکھا تو آپﷺ کی زبانِ مبارک پر سورۂ بنی اسرائیل کی ایک آیت کثرت سے رہتی تھی:
ترجمہ: ’’اے اﷲ! (نئی منزل میں) صدق و صفا سے داخل کر اور جہاں سے نکالا ہے وہاں کا نکلنا بھی صِدق و صفا پر مبنی ہو۔ (نئی جگہ مجھے دین کے پھیلانے کے لئے) غلبہ عطا فرما۔(سورہ بنی اسرائیل:80)
چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے آپﷺ کی دعاقبول فرمائی ۔ اسلامی مملکت کے قیام کے لئے آپﷺ کو غلبہ عطا فرمایا۔ ابھی آپﷺ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان ہی میں قیام فرماتھے کہ آپﷺ نے میثاقِ مدینہ کا اہتمام کیا۔ اس غرض کے لئے آپﷺ نے مہاجرین، انصار، یہود، عیسائی اور دیگر قبائل کو جمع کیا۔ آپﷺ نے جو کچھ گفتگو فرمائی اُس کے بعد آپﷺ نے اس موقع پر ایک تحریر لکھوائی۔ ابتدائی مؤرخین نے اسے صحیفہ کا نام دیا ہے..... یہ حکمرانِ وقت کا ایک فرمان تھا، ساتھ ہی تمام لوگوں کا اقرار نامہ بھی تھا جس پر اُن لوگوں کے دستخط تھے۔ اس میں مسلمان اور مشرکین دونوں شریک تھے۔ ڈاکٹر حمید اﷲ نے اسے پہلا تحریری دستور قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر حمید اﷲ لکھتے ہیں ’’مدینہ میں ابھی نراج کی کیفیت تھی اور قبائلی دور دورہ تھا، عرب اوس اور خزرج کے بارہ قبائل میں بٹے ہوئے تھے تو یہودی بنو النضیر و بنوقریظہ وغیرہ کے دس قبائل میں، ان میں باہم نسلوں سے لڑائی جھگڑے چلے آرہے تھے، اور کچھ عرب، کچھ یہودیوں کے ساتھ حلیف ہو کر باقی عربوں اور ان کے حلیف یہودیوں کے حریف بنے ہوئے تھے۔ ان مسلسل جنگوں سے اب دونوں بھی تنگ آچکے تھے اور گو وہاں کے کچھ لوگ غیر قبائل خاص کر قریش کی جنگی امداد کی تلاش میں تھے۔ لیکن شہر میں امن پسند طبقات کو غلبہ ہورہا تھا اور ایک کافی بڑی جماعت اس بات کی تیاری کررہی تھی کہ عبداﷲ بن ابی بن سلول کو بادشاہ بنادیں، حتی کہ بخاری و ابن ہشام وغیرہ کے مطابق اس کے تاجِ شہریاری کی تیاری بھی کاریگروں کے سپرد ہوچکی تھی۔ بلاشبہ حضورﷺ نے بیعتِعقبہ میں بارہ قبائل میں بارہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے نقیب مقرر کرکے مرکزیت پیدا کرنے کی کوشش فرمائی تھی، مگر اس سے قطع نظر وہاں ہرقبیلے کا الگ راج تھا، اور وہ اپنے اپنے سقیفے یا سائبان میں اپنے امور طے کیا کرتا تھا، کوئی مرکزی شہری نظام نہ تھا۔ تربیت یافتہ مبلغوں کی کوشش سے تین سال کے اندر شہر میں معتدبہ لوگ مسلمان ہوچکے تھے، مگر مذہب ابھی تک خانگی ادارہ تھا۔ اس کی سیاسی حیثیت وہاں کچھ نہ تھی، اور ایک ہی گھر میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے تھے۔ ان حالات میں حضورﷺ مدینہ آتے ہیں، جہاں اس وقت متعدد فوری ضرورتیں تھیں:
-1اپنے اور مقامی باشندوں کے حقوق و فرائض کا تعین۔
-2 مہاجرین مکہ کے قیام اورگزربسر کا انتظام۔
-3 شہر کے غیر مسلم عربوں اور خاص کر یہودیوں سے سمجھوتہ۔
-4 شہر کی سیاسی تنظیم اور فوجی مدافعت کا اہتمام۔
-5 قریش مکہ سے مہاجرین کو پہنچے ہوئے جانی و مالی نقصانات کا بدلہ۔
ان ہی اغراض کے مدّنظر حضورﷺ نے ہجرت کرکے مدینہ آنے کے چند مہینہ بعد ہی ایک دستاویز مرتب فرمائی جسے اسی دستاویز میں کتاب اور صحیفہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ جس کے معنی دستور العمل اور فرائضنامہ کے ہیں۔ اصل میں یہ شہر مدینہ کو پہلی دفعہ شہری ملکیت قرار دینا اور اس کے انتظام کا دستور مرتب کرنا تھا‘‘۔ (ڈاکٹر حمید اﷲ کی بہترین تحریریں۔ مرتبہ: قاسم محمود۔ صفحہ 253)
اس میثاق کے بنیادی نکات یہ تھے.....
-1 آبادیوں میں امن و امام قائم رہے گا تا کہ سکون سے نئی نسل کی تربیت کی جاسکے۔
-2 مذہب اور معاش کی آزادی ہوگی۔
-3 فتنہ و فساد کو قوت سے ختم کیا جائے گا۔
-4 بیرونی حملوں کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔
-5 حضورِ اکرمﷺ کے حکم کے بغیر کوئی جنگ کے لئے نہ نکلے گا۔
-6 میثاق کے احکام کے بارے میں اختلاف پیدا ہو تو اﷲ کے رسولﷺ سے رجوع کیا جائے گا۔
اس معاہدے میں مسلمانوں، یہودیوں اور مختلف قبیلوں کے لیے، الگ الگ دفعات مرقوم ہیں۔ یہ اصل میں مدینہ کی شہری مملکت کے نظم و نسق کا ابتدائی ڈھانچہ تھا۔ یہاں واضح طور پر یہ بات ذہن میں رہے کہ حضوراکرمﷺ یونان کی شہری ریاستوں کی طرح کوئی محدود ریاست قائم کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ آپﷺ نے ایک عالمگیر مملکت کی بنیاد ڈالی تھی جو مدینہ کی چند گلیوں سے شروع ہوئی اور روزانہ 900کلو میٹرکی رفتار سے پھیلتی ہوئی اُس وقت دس لاکھ مربع میل کی مملکت تھی جب اﷲ کے رسولﷺ نے دنیا سے پردہ فرمایا۔(محمد رسول اللہﷺ۔ ڈاکٹر حمید اللہ) پھر اس عالمگیر مملکت کے تصور کو سیدنا ابوبکرصدیقؓ اور سیدنا عمر بن خطابؓ نے آگے بڑھایا اور سوبرس کے اندر اندر یہ تین براعظموں میں پھیل گئی۔
اس میثاق یعنی صحیفہ میں بلدیاتی نظام کے تعلق سے حسبِ ذیل اُمور سامنے آتے ہیں:
-1 امن و امان کا قیام
-2 تعلیم وتربیت کی سہولتیں
-3 روزگار، سکونت اور ضروریاتِ زندگی کی فراہمی
قرآنِ حکیم نے بار بار نشاندہی کی ہے کہ انسان آدم وحوا کی اولاد ہیں اور زمین پر اﷲ کا کنبہ ہیں۔ انسان فطرتاً مل جل کر رہنا چاہتا ہے۔ دُنیا اور دنیا کے تمام وسائل ہمارے فائدہ کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، اس لئے صاف سیدھا طریقہ یہ ہے کہ ہم اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ فرائض اور حقوق کی ایک بڑی تفصیل ہمارے سامنے ہے۔ معلم کتاب و حکمتﷺ ان کی تشریح اور ان کی تفصیل بیان فرما چکے ہیں۔ آےئے!دیکھیں بلدیاتی نظام سے متعلق ہماری رہنمائی کے لیے سیرت نبویﷺ سے کیا اصول ملتے ہیں۔
شہری نظام کے بارے میں اﷲ کے آخری رسول حضرت محمد رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو ایک ہدایت دی کہ..... اپنے شہروں کو بہت پھیلنے نہ دینا!.....
Rehabilitation آبادکاری
ہجرت کے حکم کے بعد مدینہ میں مہاجرین کا سیلاب اُمڈ پڑا تھا اورآخر کار مدینہ میں مقامی باشندوں کے مقابلہ میں مہاجرین کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی۔(صحیح بخاری۔ابواب ہجرات) ان نوواردوں کی آبادکاری کے متعلق حضورپاکﷺ نے شروع دن ہی سے ایک جامع منصوبہ تیار کرلیا تھا۔ اس منصوبہ کی جزئیات کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے رسول اﷲﷺ نے نوآبادی (کالونائزیشن) اور شہری منصوبہ بندی (ٹاؤن پلاننگ) میں عظیم انقلاب برپا کردیا تھا۔ نوواردوں کی اتنی بڑی تعداد کو اتنے محدود وسائل میں رہائش اور کام کی فراہمی کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ پھر مختلف نسلوں، طبقوں، علاقوں اور مختلف معاشرتی و تمدنی پس منظر رکھنے والے لوگ مدینہ میں آ آکر جمع ہورہے تھے۔ ان سب کو سماجی لحاظ سے اس طرح جذب کرلینا کہ نہ ان میں غریب الدیاری اور بیگانگی کا احساس اُبھرے، نہ مدینہ کے ماحول میں کوئی خرابی پیدا ہو اور نہ قانون شکنی اور اخلاقی بے راہ روی کے رجحانات جنم لیں..... جیسا کہ عام طور پر ایسے حالات میں ہوتا ہے..... رسول کریمﷺ کا ایسا زندہ جاوید کارنامہ ہے جو ماہرینِ عمرانیات کے لیے خاص توجہ اور مطالعہ کا مستحق ہے۔ جدید شہروں میں آبادی کے دباؤ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ تمدنی، سیاسی اور اخلاقی مسائل سے نمٹنے کے لیے سیرت النبیﷺ سے ماہرین آج بھی بلاشبہ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کو سب سے پہلے رسالتمآبﷺ نے اس راز سے آگاہ کیا کہ محض سنگ و خشت کی عمارات کے درمیان میں کوچہ و بازار بنا دینے کا نام شہری منصوبہ نہیں بلکہ ایسا ہم آہنگ اور صحتمند تمدنی ماحول فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے جو جسمانی آسودگی ، رُوحانی بالیدگی، ذہنی اطمینان اور قلبی سکون عطا کرکے اعلیٰ انسانی اقدار کو جنم دے اور تہذیبِ انسانی کے نشوونما کا سبب بن سکے۔
مدینہ کی اسلامی ریاست کے قیا م کے بعددارالخلافہ کی تعمیر کے لئے موزوں جگہ کا انتخاب اور اس غرض کے لئے وسیع قطعہ اراضی پہلے ہی حاصل کرلیا گیا تھا۔ مسجد اور ازواجِ مطہراتؓ کے لئے مکانات بن جانے کے ساتھ دارالخلافہ کی تعمیر کا پہلا مرحلہ تکمیل کو پہنچا۔ دوسرے مرحلہ کا آغاز نو وارد مہاجرین کی اقامت اور سکونت کے مختصر مکانات (کوارٹرز) کی تعمیر سے کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ تعمیرات کے اس دو مرحلہ جاتی منصوبے پر ایک سال یا اس سے کچھ زائد عرصہ لگ گیا۔
مدینۃ الرسول، ایک لحاظ سے ’’مہاجر بستی‘‘ تھی۔ گوسارے مہاجر وہاں اقامت نہ رکھتے تھے۔(طبقات ابن سعد) ہوسکتا ہے جب مدینہ کی آبادی بڑھی ہو تو مکانات اور تعمیرات کا سلسلہ پھیل کر عہدِ رسالت مآبﷺ ہی میں قریب کی آبادیوں بنی ساعدہ، بنی النجار وغیرہ سے مل گیا ہو ورنہ ریاست کی پالیسی یہ تھی کہ مدینہ کی کالونی میں صرف مہاجرین کو بسایا جائے۔ عوالی میں رہنے والے بنو سلمہ کے قبیلے نے جب مدینہ آکر آباد ہونے کی درخواست کی تو آپﷺ نے اسے نامنظور کردیا اور انہیں اپنے قریہ ہی میں رہنے کی ہدایت کی۔ ریاست کی نوآبادی اسکیم کا یہ بھی ایک اہم حصہ تھا کہ اﷲ کی راہ میں وطن چھوڑ کر مدینہ آنے والے لُٹے پٹے، بے سرو سامان اور بے یارو مدد گار مہاجروں کے قافلوں کو جائے رہائش سرکاری طور پر فراہم کی جائے بلکہ ان نوواردوں کو سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرایا جاتا اور ان کے کھانے اور دیگر ضروریات کا انتظام بھی سرکاری طور پر کیا جاتا۔ بعد ازاں ان لوگوں کو مستقل رہائش کے لیے جگہ یا مکان مہیا کرنا بھی حکومت کا فرض تھا۔ گویا مہاجرین کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی اسلامی حکومت کے سپرد تھی اور اسلامی حکومت اس بہت بھاری ذمہ داری سے مالی عُسرت اور اقتصادی وسائل کے فقدان کے باوجود، خوش اسلوبی سے عہدہ برا ہوئی۔
مہاجرین کی عارضی رہائش کا انتظام مسجد کے اندر کیمپ لگا کر یا صفہ میں کیا جاتا۔ اگر مہاجرین کی تعداد زیادہ ہوتی یا قافلہ پورے قبیلے پر مشتمل ہوتا تو انہیں عموماً شہر کے باہر خیموں میں ٹھہرایا جاتا..... تاآں کہ مستقل رہائش کا معقول انتظام نہ ہوجاتا.....
آباد کاری کے دو طریقے اختیار کیے گئے، اولاً یا تو کسی ذی ثروت انصاری مسلمان کو کہہ دیا جاتا کہ وہ ایک مہاجر کی رہائش کا اپنے ہاں انتظام کرلے۔ مگر خیال ہے کہ صرف شروع کے ایام میں ایسا کیا گیا جب کہ اسلامی ریاست صحیح طرح صورت پذیر نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی منظم تھی۔
مہاجروں کو ٹھہرانے کے لئے عموماً بڑے بڑے مکانات تعمیر کیے گئے۔ کنواروں کے لئے ایسے مکانات علیحدہ تھے اور شاید عیال داروں کے لیے علیحدہ۔ یہ مکانات کئی کمروں پر مشتمل تھے ایک کمرہ ایک خاندان کو دیا جاتا۔ البتہ ایسے مکانات میں باورچی خانہ وغیرہ مشترکہ ہوتا۔ اندازہ ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے مدینہ کی کالونی میں سرکاری طور پر علیحدہ رہائش کے لئے جو مکانات بنوائے وہ تین کمروں کے تھے۔ (ماخوذازادب المفرد۔ امام بخاری)
توسیع شہر: تعمیرات کا سلسلہ ایک عرصہ تک تواترکے ساتھ جاری رہا۔ یہاں تک کہ بنی قینقاع کے اخراج 3ہجری کے بعد مکانات کی خاصی تعداد مسلمانوں کے ہاتھ آجانے کے سبب رہائشی قلت بہت حد تک دُورہوگئی مگر یہ مسئلہ ختم نہ ہوا کیونکہ رہائشی سہولتوں کے مقابلے میں نواردوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی اور اس میں روز بروز اضافہ ہورہاتھا اس لئے 2ہجری (بنی قریظہ کی فتح ) تک یہ مسئلہ سنگین نوعیت کا تھا۔ اس کے بعد اسلامی حکومت کے آمدنی کے وسائل بھی پیداہوگئے،مسلمانوں کی اقتصادی حالت بھی قدرے سنبھل گئی،یہودیوں کے بہت سے مکانات بھی مل گئے لہٰذا معاملہ کی سنگینی بڑی حد تک کم ہوگئی تاہم آبادکاری کا کام فتح مکہ اور اس کے بعد بھی جاری رہا۔ فتح کے ساتھ ہی چونکہ ہجرت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا اسلئے مدینہ میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ رُک گیا۔تاہم کئی لوگ بعدازفتح مکہ بھی مدینہ میںآکر آباد ہوئے اور حصول تعلیم وغیرہ کے لئے آنے والوں کا بھی تانتابندھارہا۔(عہد نبوی کا نظامِ تعلیم۔ڈاکٹر حمید اﷲ)
عہد نبویﷺ کے اواخرمیں مدینہ کا شہر مغرب میں بطحان تک ، مشرق میں بقیع الفرقد تک ،اورشمال مشرق میں بنیساعدہ کے مکانات تک پھیل چکا تھا اور رسول اﷲﷺ نے اب وہاں مزید مکانات تعمیر کرنے سے روک دیا۔ شہری منصوبہ بندی کے ضمن میں حضوراکرم ﷺ کا یہ اقدام زبردست اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ وہی کرسکتے ہیں جنہیں جدید صنعتی شہروں کے اخلاق باختہ اور انتشار انگیز معاشرے کاقریبی مطالعہ کرنے کا موقع ملاہے، آپﷺ نے شہرِنو(مدینہ) کو ایک خاص حد سے متجاوزنہ ہونے دیااور اس شہر کی زیادہ سے زیادہ حد پانچ سو ہاتھ مقرر کی اورفرمایا کہ شہر کی آبادی اس حد سے بڑھ جائے تو نیا شہر بسائیں اورآپ ﷺنے اپنی زندگی میں ہی اس اصول پر عمل کرتے ہوئے دو اقدام کیے ، ایک یہ کہ اضافی آبادی کو یا تو اور زمینوں میں منتشر کرنے کا حکم جاری کیا تاکہ اس طرح ایک طرف زرعی انقلاب بر پا کیا جاسکے اور دوسری طرف نئے لوگوں کی رہائش کے لیے گنجائش نکالی جا سکے۔ دوسرے یہ کہ قریظہ ونضیر کی مفتوحہ بستیوں یا جوفِمدینہ کے دیگر قریوں میں پھیلادیا تاکہ ایک جانب معاشرتی ناہمواریاں پیدا ہونے کے امکانات ختم ہوجائیں اور دوسری طرف صحت مند اور تعصبات سے پاک معاشرت تخلیق کی جاسکے۔ اس میں مبالغہ نہیں ہے کہ رسالتمابﷺ نے اپنے مقاصد میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی۔(نسائی: کتاب الصلوٰۃ)
آج کل کچھ مغربی ممالک میں ٹاؤن پلاننگ کے انہی زرّیں اصولوں پر جنہیں رسول اﷲ نے چودہ سوسال پہلے آزمایا تھا عمل کرکے معاشرتی ہیجان اور تہذیبی انتشارکی شدت کو کم کرنے میں ایک حد تک نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
مدینہ کی شہری ریاست :
موجودہ دور میں شہری حکومت کے مقاصد کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں۔
-1شہر کی گلیوں اور شاہراہوں کا بندوبست ، مارکیٹوں کی تعمیر ، رہائشی انتظامات۔
-2پینے کے پانی کی فراہمی اور تقسیم
-3گندے پانی کی نکاسی ، کوڑے کرکٹ کے پھینکوانے کا بندوبست
-4تعلیم ، علاج ، دیگر فلاحی اداروں ، کھیل کے میدانوں کاقیام۔
-5چمن بندی اور شہر کی خوب صورتی اور تفریح گاہوں کاانتظام۔
-6ان کاموں کے لئے مالی وسائل اور کاموں کا احتساب۔
حضور پاکﷺ کی احادیث سے ہمیں بلدیاتی نظام کے بہت سے اُصول ملتے ہیں۔ جہاں تک محکمۂ احتساب کا تعلق ہے فارابی ، ماوردی اور طوسی اس کی موافقت میں ہیں۔ماوردی نے محکمۂ احتساب کی خصوصیا ت کے بارے میں لکھاہے کہ یہ محکمہ انصاف اور محکمہ پولیس کے درمیان ایک محکمہ ہے۔ محتسب کا فریضہ یہ ہے کہ اچھے کام جاری کرے اور بُرے کاموں کو روکے ۔قرآنی اصطلاح ، معروف کی تین قسمیں ہیں۔
-1حقوق اﷲ
-2حقوق العباد
-3وہ اعمال و افعال جن کا تعلق دونوں سے ہو۔
مدینۃ النبی میں یہ کام اﷲ کے رسول ﷺ خود انجام دیتے تھے۔ حضور سرورِ کائنات ﷺ مدینے کے بازاروں میں نکلتے توجگہ جگہ رُک کرناپ تول کر پیمانے دیکھتے۔ چیزوں میں ملاوٹ کا پتہ لگاتے۔ عیب دار مال کی چھان بین کرتے۔گراں فروشی سے روکتے۔ استعمال کی چیزوں کی مصنوعی قلت کا انسداد کرتے۔ اس ضمن میں سیدنا حضرت عمرؓ ، حضرت عبیدؓ بن رفاعہ، حضرت ابو سعید خدریؓ ، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ ،حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت انسؓ، حضرت ابوامامہؓ، حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت علیؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کی بیان کردہ حدیثیں اصولوں کا تعین کرتی ہیں۔
بلدیاتی نظام میں سب سے اہم سڑکوں ، پُلوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کے علاوہ نئی شاہراہوں کی تعمیر اور آئندہ کے لئے اُن کی منصوبہ بندی کاکام ہوتاہے۔ بعض لوگ ذاتی اغراض کے لئے سڑکوں کوگھیر لیتے ہیں۔ بعض مستقل طورپر دیواریں کھڑی کرلیتے ہیں۔ فقہ اسلامی میں اس کے بارے میں واضح احکام ملتے ہیں۔صحیح مسلم کی ایک روایت ہے حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ’’اﷲ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم راستے میں اختلاف کرو تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ ہوگی۔ اس سے کم گلی بھی نہیں ہوسکتی۔‘‘
حضور اکرم ﷺ نے سڑکوں پربیٹھنے ، تجاوزات کھڑی کرنے ،سڑکوں پرگندگی ڈالنے سے روکا ہے۔ آپﷺ نے سڑکوں پر سے رکاوٹ کی چھوٹی موٹی چیز کو ہٹا دینے کو صدقہ قرار دیا ہے۔ سڑکوں پر سایہ دار درخت لگانے کا حکم ہے۔ ابو اللیث سمر قندی اپنے ایک فتوے میں لکھتے ہیں کہ ’’ کسی سمجھ دار آدمی کے لئے یہ بات زیبا نہیں کہ وہ راستے پر تھوکے یا ناک صاف کرے یا کوئی ایسا کام کرے جس سے سڑک پر پیدل چلنے والے کے پاؤں خراب ہوجائیں۔ اسلام کا قانونِ حق آسائش اس با ت کی اجازت نہیں دیتا کہ سڑ ک پر کوئی عمارت بنائی جائے۔ ‘‘ راستے پر تصرف کسی کام کے لئے جائز نہیں ۔ تجاوزات کھڑی کرنے اور ریڑے لگانے والے اگر راستہ روکیں تو حکم ہے کہ اُن سے مال نہ خریدا جائے۔
موجودہ دور میں ایک اہم مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ اس کے بارے میں تعلیمات نبوی ﷺ سے احکام ملتے ہیں۔ سڑکوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے اور راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے سے اﷲ کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔ آپ ﷺنے جانوروں تک کے لیے راستے کی آزادی برقرار رکھی۔ مدینے کی شہر ی مملکت میں پینے کے پانی کا انتظام یہودیوں سے کنوئیں خرید کر کیا گیا ۔قبل از اسلام مدینے کی گلیوں میں گندے پانی کی نکاسی کا انتظام نہ تھا۔ بیتالخلا کا اس زمانے میں رواج نہ تھا لیکن مسلمانوں کی آمد کی وجہ سے جب شہروں کی آبادی بڑھنے لگی تو پھر ان مسائل کا حل تلاش کیا گیا۔
شہر میں پینے کے پانی کی بہم رسانی کا سرکاری طورپر انتظام کیا گیا۔ مدینہ میں پینے کے لئے میٹھے پانی کے کنویں اور چشمے بمشکل دستیاب ہوتے ۔ حضرت عثمانؓ نے جو خود بھی مدینہ کی نو آبادی میں رہتے تھے آنحضور ﷺ کے حکم کے مطابق اہلیانِ مدینہ کے لئے یہودیوں سے میٹھے پانی کا کنواں بیرِ رومہ خرید کر وقف کردیا۔ (صحیح بخاری: باب فضائل)
اسلام جسم وجان کی پاکیزگی اور ظاہر وباطن کی صفائی پر بہت زیادہ زور دیتاہے۔ وضو ، طہارت ،غسل کے احکامات اسی سلسلے کی کڑیاں اور تکمیلی مراحل تھے۔ آپﷺ نے مسجدیں بنا کر وہاں طہارت خانے تعمیر کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اسلام کے عمومی مزاج اور آپﷺ کے اس فرمان کے بعد گھر گھر غسل خانے بن گئے۔ ہر مسجد کے ساتھ طہارت خانے تعمیر کیے گئے۔ (ابن ماجہ)
ہمسائے کے حقوق کے بارے میں رسول اکرمﷺ کے جو ارشادات ملتے ہیں اُن پر عملدرآمدسے انسانی معاشرے کے کئی مسائل حل ہوجاتے ہیں۔صحیح مسلم میں حضرت انسؓ بن مالک کی روایت ہے کہ’’ کوئی مسلمان ،مسلما ن نہیں ہے جب تک وہ اپنے ہمسائے کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتاہے۔ ‘‘
اس ایک ار شاد مقدسہ میں صفائی ستھرائی، صحت ، شائستگی ، خوش خلقی ،صلح جوئی ،ہمدردی ،ایثار اتنی ساری باتیں آتی ہیں کہشہری زندگی کے تمام ضوابط کی عمدگی سے پابندی ہوسکتی ہے۔
ہجرت سے قبل مدینہ میں ناجائز تصرفات عام تھے۔رسول اﷲﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمادیا۔ گلی یا کوچے کی کم سے کم چوڑائی ۔ جھگڑاہوجانے کی صورت میں سات ہاتھ (ذارع) مقررکی۔(صحیح مسلم) جو فِ مدینہ کی آبادیوں میں گلیاں عام طورپر تنگ ہوتی تھیں اس لئے مدینہ میں بھی کوچے تنگ مگر سیدھے تھے۔ باوجود یہ کہ آپﷺ کا اور دیگر صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے مکانات مختصر تھے مگر آپﷺ نے کشادہ مکانات کو پسند کیا اور فرمایا کہ خوش بخت ہے وہ شخص جس کی جائے رہائش وسیع اور پڑوسی نیک ہو۔ ( امام بخاری ۔ادب المفرد)
حفظانِ صحت کا خیال رکھنا اسلامی زندگی کا بنیادی نظریہ ہے۔صفائی اور پاکیزگی کو اسلام نے نصف ایمان کا درجہ دیاہے۔ گھر، گھرکے باہر کا ہر مقام، اپنے جسم ، اپنے کپڑوں کی پاکی کاحکم بار بار آیا ہے۔ مسجدوں کوپاکیزگی کے نمونے کے طورپر پیش کیا گیا ہے۔ سرکاری عمارتوں کو پاک صاف رکھنے کاحکم آیاہے۔ احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ بعض بدوی مسجد نبوی کی دیواروں پر تھوک دیتے تو اﷲ کے رسول ﷺ اپنے ہاتھوں سے اُ س جگہ کو صاف کرتے تھے۔ وضو اور غسل کا نظام، غلاظت سے صفائی کے احکام ، چوپال ،کھلیانوں کی جگہ، دریاؤں کے کنارے اور تفریح کے مقامات کو پاک وصاف رکھنا حفظانِ صحت کے اُصولوں کے مطابق بھی ہے اور یہ شائستگی کا اظہار بھی ہے۔
حفظانِ صحت ہی کے اصولوں کے تحت بلدیاتی نظام میں کھانے پینے کی چیزوں کے خالص ہونے پرزور دیا گیا ہے۔ ملاوٹ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں اور عذاب کی وعید ہے۔ پینے کے پانی کو صاف رکھنے اور گندے پانی کی نکاسی کے احکام اس عنوان کے تحت بھی آتے ہیں۔ اسی عنوان سے متعلق بیماریوں کے علاج کی سہولتیں بھی ہیں۔ ان میں وباؤں کے خلاف حفاظتی تدابیر اور بروقت ان کے انسداد کی ذمہ داری شہری حکومت پر ہے۔ مکانات ہودار اور روشن رکھنے کے احکام اسلام میں موجود ہیں۔
سایہ ،چمن بندی، عوامی تفریح گاہوں کا انتظام بھی عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔ مثلا سورۂ عبس میں ارشادربانی ہے کہ’’ ہم نے (زمین )میں سے انا ج اگایا اور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے گھنے باغ اور میوے اور چارا (یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لئے بنایا ہے۔‘‘(سورۂ عبس:آیت 32-27)
ہجرت کے وقت مدینہ باغوں کی سرزمین کہلاتاتھا اور یہاں کے لوگ باغات کے بہت شوقین تھے۔ رسالتمآبﷺ نے شہر اور مسجد کی تعمیر کے وقت یہ کوشش کی کہ وہاں موجود کھجور کے درختوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔مسجد النبیﷺ کے دروازے کے قریب کھجور کے درختوں کا ذکر کتب احادیث میں ملتاہے جہاں غسل خانہ اور طہارت خانہ بھی تھا اور کنواں بھی اسی جگہ تھا۔ مسجد النبیﷺ کے بڑے دروازے کے بالمقابل حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کا وسیع وشاداب باغ بیرحاء تھا جہاں حضورپاکﷺ اکثر تشریف لے جاتے۔(صحیح بخاری، نسائی، ابن ماجہ)
مدینہ میں نکاس�ئ آب کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا کیونکہ شہر اونچی ڈھلوانی جگہ پر تھا۔ اگر کہیں سے کوئی پہاڑی ندی نالہ گزرتاتھا تووہاں پُشتے باندھ کر عمارا ت اور تعمیرات کو محفوظ بنادیاگیا تھا۔
ہجرت کے بعد مدینہ میں خرید وفروخت کی سہولت کے لئے علیحدہ منڈی یا بازار بنایا گیا۔ خیال یہ ہے کہ یہ منڈی بنی قینقاع کے اخراج (3ہجری) کے بعد قائم ہوئی ہوگی کیونکہ اس سے پیشتر عبدالرحمان بن عوف اوردوسرے تجارت پیشہ مسلمان اپنا کاروبار قینقاع کے بازار میں کرتے تھے۔(صحیح مسلم)
مدینہ کا بازار مسجد النبیﷺ سے کچھ زیادہ فاصلے پرنہ تھا۔ بازار خاصا وسیع وعریض تھااور اخیر عہد نبویﷺ میں نہایت بارونق اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا۔تجارت کے فروغ کے لیے جناب رسالتمآب ﷺ نے زبردست کوششیں کیں جس میں سب سے اہم آپﷺ کا یہ فرمان تھا کہ ’’ مدینہ کی منڈی میں کوئی خراج نہیں ہے۔‘‘ (فتوح البلدان ۔ بلاذری)
زمانہ جاہلیت میں خفارہ کا نظام اور قدم قدم پر محصول چنگی کی وجہ سے تجارت میں بڑی رکاوٹیں تھیں۔ آپﷺ نے مختلف سیاسی اور عسکری مصالح کے پیش نظر یہ حکم صادر فرمایا جو دوررَس نتائج کا حامل تھا، اور دراصل اس طرح آپﷺ نے صرف چنگی کی لعنت ہی ختم نہ کی بلکہ جزیرۃ العرب کی تسخیر کے بعد تمام ملک میں،مدینہ کی طرح آزادانہ درآمدات اور برآمدات کی اجازت دے کر بین الاقوامی آزادتجارت کی داغ بیل ڈالی اور جدید تحقیقات نے اس بات کا ناقابل تردید ثبوت فراہم کردیا ہے کہ آزاد بین الاقوامی تجارت نا صرف اقوام ملل کے لئے بلکہ پوری نوعِ بشر کی مادی ترقی کے لئے ضروری ہے جس کے ذریعے بین الاقوامی طورپر اشیاء کی قیمتیں متوازن رکھ کر عوام کو فائدہ بھی پہنچایا جاسکتا ہے اور اقوام بھی خوشحال بن سکتی ہیں۔
تعلیمی اداروں کا قیام : حضورپاکﷺ نے منجملہ اور باتوں کے تعلیم پر بڑا زور دیا ہے۔تاریخ اسلام میں پہلا نصابِ تعلیم رسول اﷲﷺنے ہی ترتیب دیا۔اﷲ کے رسول ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت ایک چبوترہ بنا کر اسلام کی پہلی اقامتی درسگاہ کی بنیاد ڈالی تھی جہاں آپﷺ خود درس دیا کرتے تھے۔ اپنے دورخلافت میں حضرت عمرؓ نے ہر مسجد میں مکتب قائم کرکے اُن کی نگہداشت و اخراجات کا ذمہ دار بھی حکومت کو بنایا۔آج دورجدید میں شہری حکومت کی ذمہ داریوں میں تعلیم کی اشاعت اور فنون کی تربیت بھی شامل ہے۔
اﷲ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ علم انبیاء کا ورثہ ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ جہاں سے ملے لے لیں۔
Labels:
Articles
Subscribe to:
Posts (Atom)

