Showing posts with label Chart. Show all posts
Showing posts with label Chart. Show all posts

Sunday, November 1, 2009

conversion Table

عہدِ نبوی ﷺ کے پیمانے

عہدِ نبوی ﷺ کے عربی تجارتی پیمانے
ایک اوقیہ = 40 درھم
ایک اوقیہ = 1/12 رطل
ایک رطل = 12 اوقیہ
دس درہم = 7 مثقال
ایک نواۃ = 5 درھم
ایک شیعرہ = 1/8 درھم
ایک دانق = 1/6 درہم
ایک درہم = 8 شیعرہ
ایک درہم = 6 دانق


عہدِ نبوی ﷺ کے پیمانے کا جدید متبادل
ایک درہم = 1/8 اونس = 3٫543گرام
ایک دینار = 3٫5 ماشہ
ایک رطل = 5 شامی پونڈ = 15٫75 مصری اونس
ایک اوقیہ = ڈیڑھ اونس


جدید متبادل پیمانے
ایک اونس = 28٫35 گرام
ایک پونڈ = 16 اونس = 453٫6 گرام
ایک اوقیہ = 40 درھم
ایک اوقیہ = 40 درھم


عہدِ نبوی ﷺ کے رومی پیمانہ
سونے کا مثقال = 16 ماشہ
سونے کا مثقال = چاندی کی 15 سونے کا مثقال
چاندی کا درہم = 1/4 مثقال
چاندی کا 2 درہم = 1/2 مثقال
چاندی کا 4 درہم = 1 مثقال
تانبہ کے دینار(اسّاریون) = 1/16 دینار
تانبہ کے دینار(پستون) = 1/4 دینار
تانبہ کے دینار(قدرنتس) = 1/2 دینار


عہدِ نبوی ﷺ کے رومی، عبرانی، یونانی و فارسی پیمانہ
پیجس (یونانی) = 1 گز
پرسایا باع (یونانی) = 6 انچ
غلوہ (یونانی) = 200 گز
سکونس (یونانی) = 30 غلوہ
لطیرہ (یونانی) = 8 انچ
درہم (یونانی) = نیم مثقال
میطرس (یونانی) = بت
خینکس (یونانی) = 2 سعا
صامد (یونانی) = ایک بیگھا = نصف ایکڑ

میل (رومی) = 1618 گز
شاپش (عبرانی) = تہائی 1/3
اردب (فارسی) = 24 سیر


عہدِ نبوی ﷺ کے پیمانہ پیمائش
اصبع = ایک انگل = 3/4 انچ
تومح = 4 انگل = 3 انچ
زارت = 4 ضرب 4 ضرب 4 انگل = 9 انچ
اَمَّہ = ایک ہاتھ = 18 انچ
قانِہ = سرکنڈہ = 3 گز


عہدِ نبوی ﷺ کے پیمانہ اوزان
جیرہ = جیرہ = 6 رتی = 1/20 مثقال
روبع = چوتھائی مثقال = پونے 3 ماشہ
باقع = نصف مثقال = ساڑھے 7 ماشہ
شاقل = مثقال = سوا تولہ
مانہ = منا = ساڑھے 62 تولہ
کِکّار = قنطار = 47 سیر معہ سیر کا 7/8 واں حصّہ

عہدِ نبوی ﷺ کے پیمانہ گنجائش
لوج = 6 چھٹانک
قاب = ڈیڑھ سیر
عومر = 2 سیر معہ سیر کا 7/10 واں حصّہ
سعا = 9 سیر = 6 قاب
ایفہ = 27 سیر = 3 سعا
اومر = 270 سیر = 10ایفہ
لاتک = 1350 سیر = 50 اومر


عہدِ نبوی ﷺ کے پیمانہ گنجائش مائع
لوج = 6 چھٹانک
ہین = ساڑھی 4 سیر = 12 لوج
بت = 27 سیر = 6 ہین
کرّ = 270 سیر = 10 بت

Price Rate

عہدِ نبوی ﷺ میں اشیاء کی قیمت



عرب میں اشیاء کی قیمت: بحوالہ پیغمبرِ اسلام- کونسٹان ویرژیل جارج
عام اونٹ کی قیمت: 400 درہم
عام غلام کی قیمت: کم سے کم 150 درہم
مضبوط غلام کی قیمت: 800 درہم تک
ایک بھیڑ کی قیمت: 40 درہم
ایک بکری کی قیمت: 25 درہم
ایک نیزے کی قیمت: 4 درہم
اونٹ پر باندھنے والے کجاوہ کی قیمت: 16 درہم
ایک کلنگ (کدال) کی قیمت: 6 درہم
ایک روٹی کی قیمت: 1/6 درہم
چھ روٹی کی قیمت: 1 درہم


عرب میں اشیاء کی قیمت: بحوالہ احادیث نبوی
ایک بکری کی قیمت: نصف سے 1 دینار -بخاری کتاب المعجزات
اونٹ پر باندھنے والے کجاوہ کی قیمت: 13 درہم -بخاری باب مناقبت المہاجرین
قبطی (مصری) غلام کی قیمت: 800 درہم - بخاری کتاب الاکراہ
ایک خادمہ کی قیمت: 19 اوقیہ (360 درہم) - بخاری کتاب البیوع
رسول اللہ کے ایک گھوڑے (سبک) کی قیمت: 400 درہم - تاریخ طبری
ایک ڈھال کی قیمت: 3 درہم - بخاری کتاب الحدود


عہدِ نبوی ﷺ میں ملازم کی اجرت - بحوالہ اسلام کے معاشی نظریے - ڈاکٹر محمد یوسف الدین
گلہ بانی، بکریاں ریوڑ چرانے کی اجرت فی جانور 1 قیراط (یعنی 20 جانور 1 دینار) ہوتی تھی - بحوالہ بخاری، ابن ماجہ
ہجرت حبشہ کے وقت جدّہ سے حبشہ جہاز کا کرایہ فی سوار کرایہ نصف دینارتھا - بحوالہ تاریخ طبری، طبقات ابن سعد
حضرت بلال کو 5 اوقیہ (200 درہم) میں خریدا گیا - تاریخ طبری
حضور کی اونٹنی قصوہ کو 400 درہم میں خریدا گیا - تاریخ طبری

Sunday, October 25, 2009

Cloth & Costume

عہدِ نبوی ﷺ کے لباس

عرب گھرانہ کا لباس


عیسائی گھرانہ کا لباس


یہودی گھرانہ کا لباس


یہودی بادشاہ کا لباس

یہودی راہب کا لباس

بازنطینی (رومن)گھرانہ کا لباس

بازنطینی بادشاہ کا لباس

بازنطینی ملکہ کا لباس

قدیم بازنطینی بادشاہ اور ملکہ کا لباس

بازنطینی بشپ، پادری کا لباس

بازنطینی امراء، درباری کا لباس

بازنطینی ملکہ و کنیز کا لباس

بازنطینی سپہ سالار و سپاہی کا لباس

اینگلو ساکسن بادشاہ اور ملکہ کا لباس

ساکسن سردار اور اس کی بیوی کا لباس

اینگلو ساکسن مرد و سپاہی کا لباس

اینگلو ساکسن خواتین و کنیز کا لباس

برٹش سپہ سالار و سپاہی کا لباس

کارولنژی (فرانس ) بادشاہ کا لباس

کارولنژی (فرانس ) ملکہ کا لباس

کارولنژی (فرانس ) درباری کا لباس

کارولنژی (فرانس ) بشپ و سپاہی کا لباس

مصری گھرانہ کا لباس

مصری بادشاہ کا لباس

مصری ملکہ کا لباس

مصری درباری کا لباس

فرانک بادشاہ اور ملکہ کا لباس

فرانک شاہی افراد کا لباس

فرانک گھرانہ کا لباس

ترک اور مراکشی گھرانہ کا لباس


مراکشی شاہی خاندان کا لباس

فارس کے بادشاہ کا لباس

قدیم فارس کے بادشاہ کا لباس

قدیم فارس کے درباری کا لباس

فارس کے سپاہی و شاہی افراد کا لباس

قدیم رومی سپاہی کا لباس

ٹیوٹانک قبائل(جرمن)گھرانہ کا لباس

ٹیوٹانک قبائل(جرمن)سردار کا لباس

ٹیوٹانک قبائل(جرمن)سپاہی کا لباس

قدیم ٹیوٹانک قبائل(جرمن)جنگجو کا لباس

Saturday, October 24, 2009

World War


عہدِ نبوی ﷺ کی عالمی جنگیں

سن 550ء سے 650ء



عہد نبوی
ساکسون کی مہمات
گاتھ۔ لمبارڈ جنگ
روم ۔ فارس جنگ
جنگِ چالوکیہ سلطنت
غزنی ۔ لخمی کے درمیان جنگ
جنگِ ایدلفرتھ
روم ۔آورین جنگ
چالوکیہ ۔ ہرش وردھن جنگ
چین ۔ چام کی جنگ
سینو۔کورین جنگ
غزواتِ نبیﷺ
روم ۔ آورین جنگ
جنگِ آسولڈ
عرب ۔ روم جنگ
عرب - فارس جنگ
چین ۔ ترک جنگ
سینو ۔تبت
سینو۔کورین
سینو۔ہند



Friday, October 23, 2009

War of Prophet

غزواتِ رسولﷺ
غزوۂ ابواء صفر:--- 2ہجری623ء اگست623ء
غزوۂ بواط
:--- ربیع الاول2ہجری ستمبر623ء
غزوۂ ذی عُشیرہ
:--- جمادی الاخر2ہجری دسمبر623ء
غزوۂ سفوان
:--- جمادی الاخر2ہجری دسمبر623ء
غزوۂ بدر
:--- 12 رمضان2ہجری 8مارچ624ء
غزوۂ بنی سُلیم:--- 24رمضان 2ہجری 20مارچ624ء
غزوۂ بنی قینقاع
:--- 15شوال2ہجری 10اپریل624ء
غزوۂ سویق
:--- ذی الحج2ہجری
غزوۂ غطفان
:--- محرم3ہجری
غزوۂ احد
:--- 14شوال3ہجری
غزوۂ حمراء الاسد
:--- 15شوال3ہجری
غزوۂ بنو نضیر
:--- ربیع الاول4ہجری اگست625ء
غزوۂ بدرثانی
:--- شعبان4ہجری
غزوۂ دومۃ الجندل
:--- 25ربیع الاول5ہجری
غزوۂ مریسیع
:--- 2شعبان5ہجری
غزوۂ خندق
:--- ذیقعدۃ5ہجری مارچ627ء
غزوۂ بنو قریظہ
:--- 23ذیقعدۃ5ہجری مارچ627ء
غزوۂ بنو لحیان
:--- ربیع الاول6ہجری
غزوۂ بنی قردیہ(غابہ)
:--- 6ہجری
غزوۂ خیبر
:--- جمادی اول7ہجری
غزوۂ ذات الرقاع
:--- جمادی اول7ہجری
غزوۂ موتہ
:--- جمادی الاول8ہجری اگست629ء
فتحِ مکہ
:--- 10رمضان8ہجری 1جنوری630ء
غزوۂ حنین
:--- 6شوال8ہجری
غزوۂ طائف
:--- ذیقعدہ 8ہجری
غزوۂ تبوک
:--- رجب9ہجری



غزواتِ رسولﷺ
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں کم وبیش اٹھاسی مہمات بھیجی تھیں۔ ان میں سے کچھ ایسی تھیں جن کی قیادت کسی صحابی کے سپرد تھی جو ’’سرایا‘‘ کہلاتی تھیں اور بعض کی قیادت خود سرورِ عالم ﷺ نے فرمائی اور یہ غزوات کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی تعداد 27ہیں، ان میں سے 9غزوات ایسے ہیں جن میں حضور ﷺ نے دشمنوں سے جنگ کی تھی یعنی بدر، احد، مریسیع، خندق، قریظہ ، خیبر، مکہ، حنین اور طائف اور باقی اٹھارہ میں شمشیر کا استعمال نہیں ہوا۔ (طبقات ابنِ سعد صفحہ 343)
ان تمام غزوات کی تفصیل ، فتح البلدان ، بلاذری، مغازی رسول، واقدی، تاریخ ابن خلدون، سیرت النبیؐ کے حوالہ سے ذیل میں درج کی جارہی ہے۔

غزوۂ ابواء: صفر 2ھ میں حضور ﷺ ، ساٹھ سے دو سو مہاجرین کے ہمراہ مدینہ سے نکلے۔ مقصد قریش کی شامی تجارت کو بند کرنا تھا۔ آپ مدینے سے نکل کر کوئی اسّی میل جنوب مغرب میں ابواء تک گئے۔ یہ ایک پہاڑ کا نام ہے جو جُحفہ سے 13میل دورتھا۔اس مہم میں مشرکین کا تجارتی قافلہ نہ پہنچا اور پندرہ دن کے بعد لوٹ آئے۔ (سیرت النبی۔ شبلی نعمانی، تاریخ ابن خلدون)
غزوۂ بُواط: بُواط مدینہ سے کوئی پچاس میل دُور مغرب کی طرف پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے۔ ینُبع سے ایک منزل مشرق میں یہ کبھی قبیلہ جہینہ جو مدینہ سے کوئی ڈیڑھ سو میل شمال مغرب میں آباد تھا کی ملکیت میں یہ خطّہ تھا۔ حضور.. ﷺ کو اطلاع ملی کہ قریش کا ایک کارواں جس میں اڑھائی ہزار اونٹ ہیں، اور جس کی حفاظت اُمیّہ بن خلف اور سو دیگر آدمی کررہے ہیں، شام سے آرہاہے۔ چنانچہ آپ دو سو صحابہ کو لے کرنکلے۔ آپ بواط تک گئے لیکن قافلہ نہ مل سکا اور واپس آگئے۔ (ابن جوزی)
غزوۂ تلاشِ کُرز: مکّہ کا ایک مہم جُو کُرز بن جابر مدینہ کی چراگاہوں سے بہت سے مویشی ہانک کر بھاگ گیاتھا۔ حضور ﷺ اس کی تلاش میں سوادِ بدر کی ایک وادی سَفوان تک گئے تھے لیکن اُسے نہ پاسکے۔ یہ واقعہ ربیع الاوّل 2ھ میں پیش آیاتھا۔ (استیعاب۔ جلد1:صفحہ 223)
غزوۂ ذی العُشیرہ: ذوالعشیرہ مدینہ کے مغرب میں ساحل کی طرف ینُبع کے قریب ایک موضع جہاں حضور جمادی الآخر2ھ میں ایک تجارتی قافلے کو روکنے کے لیے گئے تھے۔ آپ کے ہمراہ ڈیڑھ سو صحابہ تھے۔ سواری اور باربرداری کے لیے تیس اونٹ بھی تھے۔ آپ ﷺ قافلے کو نہ پاسکے اور واپس آگئے۔
غزوۂ بدر: بدر دراصل ایک کنویں کا نام تھا جو اُس نواح کے ایک سردار بدر بن حارث یا بدر بن کَلدہ نے کُھدوایا تھا۔ لیکن بعد میں یہ ساری وادی بدر کے نام سے مشہور ہوگئی۔ یہ وادی مدینہ سے کوئی اَسّی میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔ یہ وادی بیضوی شکل کی ہے، اندازاً پانچ میل لمبی اور چار میل چوڑی اس کے اردگرد کئی پہاڑیاں ہیں۔ سمندر وہاں سے 13یا12میل کے فاصلے پر ہے۔(ڈاکٹر حمید اﷲ :عہد نبویؐ کے میدانِ جنگ)
حضور ﷺ کو مخبروں نے اطلاع دی کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ جس میں ایک ہزار اُونٹ اور تقریباً پانچ چھ لاکھ درہم کا سامان ہے۔ شام کی طرف سے آرہاہے۔ آپ۔ ﷺ اس قافلے کو روکنے کے لیے 12رمضان2ھ کو 313صحابہ کے ہمراہ مدینہ سے نکلے۔اس غزوہ میں شہادت پانے والوں کی تعداد 14تھی۔ دوسری طرف قریش کا لشکر 950سپاہیوں پر مشتمل تھا۔ اُن کے ساتھ سات سو اُونٹ اور ایک سوگھوڑے تھے۔ باایں ہمہ اُن کے ستّر آدمی ، جن میں ابوجہل ، ولید بن عقبہ اور حنظلہ بن ابوسفیان جیسے سردار شامل تھے، مارے گئے اور ستّر اسیر ہوئے۔ اُن میں حضور پاک . ﷺکے چچا عباسؓ اور خالد بن ولیدؓ کے بھائی ولید بن ولید شامل تھے۔ یہ تصادم 17رمضان 2ھ کو ہواتھا اور حضور 23یا22رمضان کو مدینہ واپس آئے تھے۔ (عہدِ نبوی کے میدانِ جنگ :صفحہ45-26، ابن خلدون ،جلد ا:صفحہ 88-82)

غزوۂ بنی قینقاع: مدینہ میں یہود کے تین قبیلے آباد تھے۔ بنو قینقاع، بنو نضیر، اور بُنوقُریَظہ، یہ سب کے سب مدینہ کے حوالی میں رہتے تھے اور ان کا گزارہ تجارت، صنّاعی (زرگری وآہنگری) اور زراعت پر تھا۔ قینُقاع زرگری کا کام کرتے تھے اور اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ کے ذخائر بھی پاس رکھتے تھے گو حضور ﷺ نے مدینہ آتے ہی اوس، خزرج اور یہود سے ایک معاہدہ کرلیاتھاجسے انہوں نے توڑدیا۔ اب حضور ﷺ کے پاس جنگ کے سوا کوئی اور صورت باقی نہیں رہی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ شوال2ھ کو صحابہؓ کے ایک دستہ لے کر قبیلۂ قینُقاع کی طرف بڑھے اور ان کا محاصرہ کرلیا۔ پندرہ روز کے بعد یہود نے پیش کش کی کہ مسلمان اُن کے مال میں سے جو چاہیں لے لیں۔ لیکن اُنہیں بال بچوں سمیت مدینہ سے نکل جانے کی اجازت دے دیں۔ حضور ﷺ نے یہ پیش کش منظور فرمالی۔ اس کے بعد وہ لوگ مدینہ کو چھوڑ کر خیبر، فدک اور تیما وغیرہ کی طرف نکل گئے۔ (سیرت النبیؐ۔ جلد1:صفحہ408-395)
غزوۂ سویق: شکستِ بدر کے بعد ابو سفیان نے قسم کھالی تھی کہ وہ اس شکست کا انتقام لے گا چنانچہ مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک مقام عُریض کہلاتاتھا وہاں ایک نخلستان میں دو صحابیؓ مصروفِکار تھے۔ ابوسفیان نے ان دونوں کو قتل کردیا اور پھر ڈر کے بھاگ نکلا اور اُونٹوں کو سُبک سیر بنانے کے لیے سویق (ستّو) کے تھیلے راہ میں پھینکتاگیا۔ اسی مناسبت سے یہ مہم غزوۂ سویق کے نام سے مشہور ہوگئی۔
جب حضور ﷺ تک یہ اطلاع پہنچی تو آپ 5ذی الحجہ کو اسّی80 صحابہ کے ہمراہ ابو سفیانؓ کی تلاش میں نکلے۔ دور تک اُس کا تعاقب کیا۔ لیکن وہ نہ ملا اور آپ. ﷺ پانچ دن کے بعد واپس آگئے۔(ابنِ خلدون۔ جلد1:صفحہ96اور سیرت النبی ؐ۔ شبلی۔ جلد1: صفحہ365)

غزوۂ قَرقَرۃُ الکُدر: حضور. ﷺ کو اطلا ع ملی کہ عرب کے دو اہم قبیلے سُلیم اور غطفان ارحضیہ کے قریب ایک موضع قرقرۃ الکدر میں، جو مدینہ سے کوئی اسّی میل دور تھا، جمع ہورہے ہیں۔ آپ نے ان کو سزا دینے کا فیصلہ فرمایا اور دو سو صحابہ کے ہمراہ محرم 3ھ کو مدینے سے روانہ ہوئے۔ آپ تین چار روز کے بعد منزل پر جاپہنچے۔ لیکن وہاں دشمن کا نشان تک نہ تھا۔ وہا ں صرف اُن کے اونٹ تھے جو صحرا میں چر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے صحابہؓ فرمایا کہ یہی اُونٹ اُن کی سواریاں ہیں جن پر چڑھ کر وہ مدینے پر حملہ کرسکتے ہیں، اس لیے انہیں ہانک کر لے چلو۔ چنانچہ وہ اُنہیں ہانک لائے۔(تلقیح۔ ابن جوزی)
غزوۂ غَطَفان: غزوۂ کُدر سے کوئی دو ماہ بعد حضور ﷺ کو اطلا ع ملی کہ نجد کے دو قبیلے ثعلبہ اور محارب، جو غطفان کی شاخیں تھیں، ذوامر(بنو غطفان کاایک موضع میں جمع ہورہی ہیں۔ بنو محارب کے رئیس دُعثور بن حارث اس اجتماع کے قائد ومحرک ہیں چنانچہ آپ ﷺ 12ربیع الاول 3ھ کو 450صحابہ کے ہمراہ مدینہ سے نکلے ۔ جب ان قبائل کو آپ ﷺ کی آمد کا علم ہوا تو پہاڑوں میں بھاگ گئے۔اس سفر کا یہ واقعہ مشہور ہے کہ آپ ﷺ وہاں دن کے وقت ایک درخت کے نیچے آرام فرمارہے تھے کہ دبے پاؤں دُعثور وہاں جا پہنچا۔ تلوار سونت کر حضور ﷺ کے سر پر کھڑا ہوگیااور بلند آواز سے کہنے لگا: بتااے محمد ﷺ! تجھے اب مجھ سے کون بچائے گا؟۔ حضور ﷺ نے بے ساختہ جواب دیا’’اﷲ‘‘ دُعثور کے ہاتھ سے تلوار گر گئی جسے حضور ﷺ نے فوراً تھام کر پوچھا’’بتا اب تجھے کون بچائے گا؟ کہنے لگا’’کوئی نہیں‘‘..... اور ساتھ ہی کلمہ پڑھ کر اسلام لے آیا۔ حضور ﷺ وہاں کچھ دیر ٹھہرے اور پھر کسی تصادم کے بغیر واپس چلے گئے۔ (تلقیح۔ ابن جوزی)
غزوہ بنو سُلیم: مدینہ سے کوئی 60/50میل جنوب مشرق میں ایک مقام فُرع کہلاتاتھا اور اُس کے قریب ہی ایک اور موضع بُحران کے نام سے مشہور تھا، حضور ﷺ کو اطلاع ملی کہ بنو سُلیم بحران میں جمع ہورہے ہیں ۔ 9جمادی الاولیٰ 3ھ کو تین سو صحابہ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ منزل پر پہنچے تو وہاں کسی لشکر کا نشان نہ تھا۔
غزوۂ اُحد: بدر کے مقتولوں کا انتقام لینے کے لیے قریش سخت بے تاب تھے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے انہوں نے تین ہزار جانبازوں کا ایک لشکر تیار کیا جس میں سات سو زرہ پوش تھے اور جن کے پاس دو سو گھوڑے اور تین ہزار اُونٹ تھے۔ یہ لشکر 5شوال3ھ اُحد کے قریب فروکش ہوا۔ حضور ﷺ کو لمحہ لمحہ کی خبر مل رہی تھی۔ آپ ﷺ دو دن بعد ایک ہزار افراد کے ہمراہ مدینہ سے نکلے۔ جب جنگ شروع ہوگئی تو مسلمانوں کے تُندوتیز حملوں سے قریش کے پاؤں اُکھڑ گئے اور مسلمانوں نے قریش کا سامان سمیٹنا شروع کیا۔ یہ صورت دیکھ کر قُلّہ کوہ کے تیر انداز بھی نیچے کو بھاگے۔ عبداﷲؓ بن جبیر نے بہت روکا۔ لیکن انہوں نے پرواہ نہ کی۔ اس پر خالد بن ولیدؓ نے پیچھے سے حملہ کیا۔ حملہ اتنا تیز تھا کہ مسلمانوں کے پاؤں اُکھڑ گئے۔ ایک خاصی تعداد شہید ہوگئے۔ حضور ﷺ کے چہرے پر چوٹ آئی۔ دائیں طرف کا ایک نچلا دانت ٹوٹ گیا اور آپ ﷺ ایک گڑھے میں گر پڑے۔ اس پر یہ افواہ پھیل گئی کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے ہیں۔ اس سے عام بدحواسی چھاگئی ۔ بعد ازاں حضور ﷺ کی حیات کی خبر سن کر جاں نثار کفار پر ٹوٹ پڑے۔
اس جنگ میں شہداء کی تعداد 70 تھی۔ ان میں حضرت حمزہؓ ، حضرت عبداﷲ بن حجشؓ، حضرت معصب بن عمیرؓ و دیگر مہاجر صحابہ اور انصار شامل تھے۔ جب کہ مقتولینِ قریش کی تعداد بقولِ ابن خلدون (جلد1۔ صفحہ104) بائیس تھی اور بقول ابن الجوزی (تلقیح: صفحہ25) تئیس تھی۔

غزوۂ بنو نضیر: بنو نضیر یہودِ مدینہ کا ایک قبیلہ تھاجو مسجدِ نبوی ﷺ سے جنوبِ مشرق کی طرف شہر سے باہر آباد تھا۔ یہ ہر وقت اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتاتھا۔ آپ ﷺ ربیع الاول 4ھ میں صحابہ کا ایک لشکر لے کر بنو نضیر کے محلّے میں گئے ۔ ان کا محاصرہ کرلیا اور پندرہ دن کے بعد اس شرط پر صلح ہوئی کہ یہود ہتھیار چھوڑ جائیں اور جتنا سامان اُٹھاسکتے ہیں لے کر مدینہ سے نکل جائیں۔ چنانچہ یہ لوگ خیبر وغیرہ کی طرف چلے گئے ۔ (سیرت النبی ؐ۔ شبلی ۔ جلد1:صفحہ408، عہدِ نبویؐ کے میدانِ جنگ: صفحہ 9، ابنِ خلدون۔جلد1:صفحہ117)
غزوۂ بدر الموعد:جنگِ اُحد کے خاتمے پر ابوسفیان نے بلند آواز سے کہاتھا کہ اگلے سال ہماراتمہارا مقابلہ میدانِ بدر میں ہوگا۔ چونکہ حضور نے اس چیلنج کو منظور کرلیا تھا اس لیے آپ 4ھ کو پندرہ سو صحابہ اور دس گھوڑوں کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوگئے۔ ابوسفیان بھی دو ہزار ہمراہیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا لیکن اُسے حملے کی ہمت نہ پڑی اور واپس چلاگیا۔ (ابنِ خلدون ۔ جلد اول:صفحہ118)
غزوہ ذاتُ الرقاع: حضور کو اطلاع ملی کہ نجد میں غطفان کے دوقبیلے ثعلبہ اور اَنمار مدینے پر حملے کے لیے جمع ہورہے ہیں۔ آپ نے چار سو (یا سات سو) صحابہ کے ساتھ محرم 5ھ میں کوچ کیا اور ایک ایسے میدان میں خیمے ڈالے جس کے چاروں طرف سرخ ، سفید اور سیاہ رنگ کی پہاڑیاں تھیں اور یوں نظر آتاتھا گویا رنگ برنگ کپڑے دھوپ میں لٹکے ہوئے ہیں۔ قبائل منتشر ہوگئے اور حضورلڑے بغیر واپس آگئے۔ ذات الرقاع کے لفظی معنی ہیں ’’دھجیوں اور ٹکڑوں والی‘‘ اس سے مراد غطفان کا وہ میدان ہے‘‘۔ (تلقیح از ابنِ جوزی)
غزوۂ دومۃ الجَندل: دومۃ الجندل کا قصبہ مدینہ سے پانچ سو میل شمال میں اس تجارتی شاہراہ کے قریب واقع تھا جو یمن سے شام تک جاتی تھی۔ چونکہ وہاں کے قبائل مدینہ کے تجارتی قافلوں کے لیے خطرہ بن گئے تھے۔ اس لیے حضورپاک ﷺ اُن کی گوشمالی کے لیے ربیعِالاول 5ھ کو ایک ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور پندرہ دن کے بعد دومہ پہنچے۔ لیکن قبائل منتشر ہوچکے تھے اس لیے واپس آگئے۔ (تلقیح از ابنِ جوزی)
غزوۂ مُریسیع (یا بنی مصطلِق): مریسیع ایک چشمے کا نام ہے جو مدینہ سے اندازاً سو میل جنوب مغرب میں ساحل کی طرف واقع تھا اس کے نواح میں بنو خزاعہ کی ایک شاخ بنو مصطلق آباد تھی۔ حضور کو اطلاع ملی کہ یہ قبیلہ مدینہ پر حملے کا ارادہ رکھتاہے۔ آپ نے صحابہ کو تیاری کا حکم دے دیا اور 5ھ کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو وہ لوگ جنگ کے لیے تیار تھے اُن میں سے دس مارے گئے۔ چھ سو اسیر ہوئے اور غنیمت میں دو ہزار اُونٹ اور پانچ ہزار بکریاں ہاتھ آئیں۔ اس تصادم میں صرف ایک صحابی شہید ہوئے۔ (شبلی۔ جلد1: صفحہ413، ابنِ خلدون۔جلد1، صفحہ128)
غزوۂ احزاب (خندق): بنو نضیر مدینہ سے نکل کرخیبر میں پہنچے تو انہوں نے انتقام کی ٹھان لی۔ ان کے رؤسا میں سے حُیی بن اخطب اور کنانہ بن ربیع قریش کو ساتھ ملانے کے لیے مکہ میں گئے ۔ وہ پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔ اس لیے جھٹ مان گئے ۔ پھر غطفان، بنو اسد، بنو سُلیم، بنو سعد اور چند دیگر قبائل کو ساتھ ملایا اور اس طرح دس ہزار کا لشکر لے کر مدینے کی طر ف بڑھے۔
حضور تک یہ خبریں پہنچیں تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے رائے دی کہ فوج کے لیے ایک موزوں جگہ تجویز کرکے اس کے سامنے خندق کھود دی جائے۔ حضور کو یہ تجویز پسند آئی۔ یہ کھدائی تین ہفتے جاری رہی ، حضور اُن دنوں اپنا گھر چھوڑ کر خندق کے پاس ایک ٹیلے پر خیمہ لگاکر قیام پذیر ہوگئے تھے۔ آپ ﷺ شہر کے باقی لوگوں کے ساتھ خندقیں کھودنے لگے اور اس طرح سارا شہر ایک قلعہ بن گیا۔ جب یہ خندق مکمل ہوگئی تو دشمن بھی آن پہنچا اور اس نے محاصرہ کرلیا۔ محاصرے نے شدّت پکڑی تو مدینہ کے بنوقریظہ بھی دشمن کے ساتھ شامل ہوگئے۔ قریش نے ہر چند زور مارا کہ وہ خندق کو عبور کرکے آگے نکلیں لیکن تیر اندازوں نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا۔ جب محاصرہ طول پکڑ گیا اور قریش کے ذخائرِ رسد ختم ہوگئے، ساتھ ہی ایک ایسی آندھی چل پڑی جس سے درخت اُکھڑ گئے اور قریش کا مال واسباب اُڑگیا تو وہ گھبراگئے اور اکیس دن کے بعد واپس چلے گئے۔ آپ خندق میں پندرہ یوم رہے ۔ آپ کے ساتھ تین ہزار صحابہ تھے اور حملہ آوروں کی تعداد دس ہزار تھی۔ (شبلی ۔ جلد 1:صفحہ 419، ابنِ خلدون۔ جلد 1:صفحہ 120، عہدِ نبویؐ کے میدانِ جنگ:صفحہ 60)

غزوۂ بنو قرُیظہ: بنو قریظہ یہود کا ایک قبیلہ تھا جو مدینہ میں مسجدِ نبوی ؐ سے جنوبِ مشرق کی طرف آباد تھا۔ عزوۂاحزاب میں یہ لوگ معاہدے کو توڑ کر قریشِ مکہ کے ساتھ مل گئے تھے اور مسلمانوں کو مٹانے کے لیے میدانِجنگ میں اُتر آئے تھے۔ جب احزاب واپس چلے گئے تو حضور نے صحابہ سے کہا کہ وہ ہتھیار نہ کھولیں اور سب سے پہلے بنو قریظہ کے فتنے کو ختم کریں۔ چنانچہ 5ھ کو آپ تین ہزار صحابہ اور36گھوڑوں کے ساتھ اُن کے محلے میں گئے اور اُن کا محاصرہ کرلیا۔ پندرہ دن کے بعدوہ چیخ اُٹھے اور حضرت سعدؓ بن معاذ کی ثالثی پر بات چیت کے لیے آمادہ ہوگئے۔
غزوۂ بنو لحیان:بنو لحیان قبیلہ ہُذیل کی ایک شاخ تھی ، جو مدینہ کے جنوبِ مشرق میں آباد تھی۔ حضور کو اطلاع ملی کہ بنو لحیان کسی شرارت کے لیے جمع ہورہے ہیں۔ چنانچہ آپ دو سو صحابہ اور بیس گھوڑوں کے ساتھ ربیعِالاول6ھ کو مدینہ سے نکلے۔ وہاں پہنچے تو وہ سب پہاڑوں کی طرف بھاگ چکے تھے۔ اس لیے آپ14 دن کے بعد واپس تشریف لے آئے۔
غزوۂ غابہ : غابہ کے معنی جنگل کے ہیں۔ مدینہ منورہ سے چار میل کے فاصلے پر احد پہاڑ کی پشت پر ہے۔ یہاں وہ میدان مراد ہے جہاں رسول اﷲکے اونٹ چراکرتے تھے۔ (کتاب فرہنگ سیرت: صفحہ217)
ایک رات بنو غطفان کی ایک شاخ فزارہ کے سردار عُیینہ بن حِصن نے چالیس سواروں کے ساتھ غابہ پر حملہ کیا اور بیس اونٹنیاں ہانک کر لے گیا۔ ساتھ ہی حضرت ابو ذر غفاریؓ کے فرزند کو، جو اُسی چراگاہ میں رہتاتھا قتل کر ڈالا۔ حضور کو اطلاع ملی تو پانچ سو (یا سات سو) کی جمعیت لے کر اُن کا پیچھا کیا۔ آپ کے ساتھ آٹھ گھڑ سوار بھی تھے۔ انہوں نے چوروں کو جالیا۔ لڑائی ہوئی، چار چور مارئے گئے اور مسلمانوں میں صرف ایک شہید ہوئے۔ انہوں نے دس اونٹنیاں تو پکڑلیں لیکن باقی دس کو وہ بھگالے گئے۔

غزوہ حدیبیہ: حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے جو مکہ سے بارہ میل شمال میں واقع تھا ۔ جب حضور ذی قعدہ 6ھ میں تقریباً پندرہ سو صحابہ کے ہمراہ عُمرہ کے لیے روانہ ہوئے اور قریش تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے خالد بن ولید کو دوسو سوار دے کر آگے بھیجا کہ وہ مسلمانوں کو روکے۔ بلدح (مکہ کے قریب ایک وادی) میں فوجیں آمنے سامنے آگئیں ۔ لیکن حضور ﷺ حدیبیہ کی طرف نکل گئے اور وہاں پڑاؤ ڈال دیا۔ وہاں سے آپ نے حضرت خراشؓ بن امیہ کو قریش کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں بلکہ صرف عُمرہ کے لیے آئے ہیں۔ قریش نے انہیں گرفتار کرلیا۔ پھر آپ نے حضرت عثمانؓ کو بھیجا۔ وہ بھی دیر تک نہ لوٹے تو آپ نے صحابہ سے ایک ببول کے درخت کے نیچے سرفروشی کی بیعت لی۔ یہ خبرقریش تک پہنچی تو انہوں نے سہیلؓ بن عمرو کو بات چیت کے لیے بھیجا۔ کافی بحث وتمحیص کے بعد معاہدہ حدیبیہ طے پایا ۔ اس معاہدہ کے بعد مکہ ومدینہ کے لوگ آپس میں آزادانہ ملنے لگے اور اہلِ مکّہ ، اہلِ مدینہ کے حسنِ کردار ، حسنِ معاملہ اور حسنِ صحبت سے متاثر ہونے لگے۔ اس سے اسلام کے خلاف نہ صرف عناد کم ہوگیا بلکہ بے شمار دلوں میں دینِ فطرت کے لیے محبت بھی پید اہوگئی۔ (طبقات۔ جلد1:صفحہ438، تلقیح:صفحہ30، شبلی۔ جلد 1 :صفحہ447)
غزوۂ خیبر: خیبر یہود کا ایک قلعہ بند شہر تھا مدینہ سے اندازاً سو میل شمال میں ۔ بنو نضیر، قُریظہ اور قینقاع کے بیشتر جلاوطن یہود وہیں جا ٹھہرے تھے اور ارد گرد کے قبائل کو مسلمانوں کے خلاف مسلسل بھڑکاتے رہتے تھے۔ جب ان کی شرارتیں ناقابلِ برداشت ہوگئیں تو حضور، 7ھ میں سولہ سو صحابہؓ کے ہمراہ مدینہ سے نکلے۔ زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے، تیر اُٹھانے اور دیگر چھوٹے بڑے کاموں کے لیے کچھ خواتین بھی ساتھ ہولیں۔
خیبر میں کئی قلعے تھے۔ مثلاً سلالم، قموص، نطاۃ، ناعم، زُبیر، قُصارہ ، الوطیع ، شق اور مربطہ۔ جن کی حفاظت پر بیس ہزار سپاہی متعین تھے۔ ان میں قموص مضبوط ترین تھا۔ اس کا رئیس مرحب بن عنتر تھا۔ سب سے پہلے ناعم فتح ہوا۔ پھر کئی دیگر قلعے ۔ لیکن قموص فتح نہ ہوسکا۔ حضور نے یکے بعد دیگرے کئی صحابہؓ کو اس مہم پر بھیجا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس پر حضور نے فرمایا: میں کل ایک ایسے شخص کو عَلم دوں گا جو ناکام نہیں آئے گا۔ دوسرے روز حضرت علیؓ کو عَلم عطا کیا۔ حضرت علیؓ نے قلعہ پر حملہ کیا ، مرحب مرگیا۔ اس کی فوج بھاگ نکلی اور پورے بیس دن کے بعد قموص فتح ہوگیا۔ ساتھ ہی اہلِ خیبر نے ہتھیار پھینک دیے حضور نے سالانہ نصف زرعی پیداوار کا لگان عائد کرکے انہیں کامل امن وامان دے دیا۔ (ابنِ خلدون ۔جلد 1:صفحہ 149، طبقات۔جلد 1:صفحہ447، شبلی ۔ جلد 1:صفحہ475)

فتحِ مکہ: بنو خزاعہ مکہ ومدینہ کے درمیان بدر کے قریب آباد تھے او رمسلمانوں کے حلیف تھے۔ معاہدہ حدیبیہ کے مطابق قبائل عرب کو پوری پوری آزادی تھی کہ جس کے ساتھ چاہیں، معاہدہ کریں۔ فریقین اس کا احترام کریں گے۔ لیکن قریش نے اس شرط کو توڑ دیا اور نجد کے ایک قبیلے بنوبکر کے ساتھ مل کر حضور کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کردیا۔ حضور ﷺ نے قریش کوپیغام بھیجا کہ مقتولوں کا خون بہا اداکرو لیکن قریش نے انکار کردیا۔ اس پر حضور اکرم ﷺ 10رمضان 8ھ کو دس ہزار صحابہ کے ہمرہ مدینہ سے نکلے۔ جب مکہ کے قریب مرُّا الظہران میں پڑاؤ ڈالا تو ابو سفیان رات کے وقت چند دیگر آدمیوں کے ساتھ جائزہ لینے کے لیے مرّاالظہران میں گیا۔ کسی صحابی نے اسے دیکھ لیا اور پکڑ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاں لے گیا۔ وہاں پہنچ کر ابوسفیان نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔ مکہ 20رمضان 8ھ کو فتح ہواتھا۔ بعد از فتح حضور پاک ﷺ پندرہ دن اور وہاں رہے۔ پھر حضرت عتّاب بن اُسید کو عاملِ مکہ بناکر واپس تشریف لے گئے۔ (طبقات۔ جلد 1:صفحہ474، شبلی۔ جلد 1: صفحہ509)
غزوۂ حنین: حنین ایک وادی کا نام ہے جو مکہ سے تین دن کی مسافت پر شمال میں واقع ہے۔ اس کے نواح میں ثقیف و ہوازن آباد تھے۔ جب حضور 6شوال 8ھ کو بارہ ہزار مجاہدین کے ہمراہ مکہ سے روانہ ہوئے تو10شوال کو وادئحنین میں پہنچے وہاں ثقیف و ہوازن ہزاروں کی تعداد میں پہلے ہی سے مقیم تھے۔ جب 11شوال کی صبح کا سورج نکلا اور صحابہ کی صفیں دشمن کی طرف بڑھیں تو سامنے سے ہزاروں جوان ٹو ٹ پڑے۔ تیروں کا مینہ برسنے لگا اور یہ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ صحابہِ ادھرُ ادھربھاگ نکلے اور حضور کے پاس صرف سات صحابہ رہ گئے پھر وہ سب لوٹ کر دشمن پر ٹوٹ پڑے اور اس شجاعت و بے جگری سے لڑے کہ دشمن گھبراکر بھاگ نکلا اور ستّر لاشیں میدان میں چھوڑ گیا۔ صحابہ میں سے صرف چار نے شہادت پائی۔ اسیروں کی تعداد 6ہزار تک جاپہنچی۔ قبائل کا ایک وفد قیدیوں کی رہائی کے لیے آیا اور رحمتہ للعالمین نے سب کو آزاد کردیا۔ (طبقات۔ جلد 1:صفحہ488، شبلی ۔ جلد 1:صفحہ530)
غزوہ طائف : طائف مکہ کے مشرق میں چالیس میل دور ایک سر سبز وشاداب مقام ہے جہاں وادئ حنین کے مغرور جمع ہوگئے تھے۔ حضور نے حُنین سے فارغ ہوکر شوّال ہی میں طائف کا محاصرہ کرلیا۔ لوگ قلعہ بند ہوکر چھتوں پر سے تیر برسانے لگے جن سے بارہ صحابہ شہید ہوگئے۔ محاصرہ اٹھارہ دن جاری رہا چونکہ طویل سفر اور دومہمّات (مکہ وحنین) کی وجہ سے صحابہ اُکتاگئے تھے۔ اس حضور ﷺ نے محاصرہ اُٹھالیا اور واپس چل دئیے۔ دو ماہ اور سولہ دن کے بعد حضور مدینہ میں تشریف لائے۔
غزوۂ تبوک :تبوک شمالی عرب کا ایک شہر ہے۔ مدینہ سے ساڑھے تین سو میل دور اور خلیج عقبہ سے ایک سو میل مشرق میں ۔ جب شامی تاجروں نے مدینے میں آکر یہ بتایا کہ رومی فوجیں عرب کی شمالی سرحد پر جمع ہورہی ہیں تو حضور ﷺ نے جہاد کی تیاری کا حکم دے دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ ماہ رجب 9ھ میں تیس ہزار مجاہدین اور دس ہزار گھوڑوں کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہوئے ۔ تیرہ چودہ دن کے بعد تبوک میں پہنچے وہاں بیس دن رہے لیکن رومی فوج سامنے نہ آئی اس لیے آپ واپس چل پڑے اس موقع پر آپ کا گزر قومِ ثمود کی تباہ شدہ بستیوں سے بھی ہوا۔(طبقات ابن سعد۔ جلد 1: صفحہ506

Coins

عہدِ نبوی ﷺ کے سکّہ
عہد نبویﷺ میں رائج دینار اور درہم کیسے تھے؟-ان کی ماہیت، ان کا وزن، ان کی ویلیو کیا تھی؟-
اس حوالے سے کچھ معلومات پیشِ خدمت ہی
سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادتِ باسعادت کے وقت بازنطینی بادشاہ قیصر روم جسٹن دوم کی حکومت تھی۔ جسٹن دوم کی حکومت میں جاری دینار سونے، چاندی اور کانسی کے تھے۔ سونے کا دینار سولڈیوس کہلاتا تھا، جس کا وزن 4.156 گرام اور قطر 2 سینٹی میٹر تھا۔ اس سکے کے سیدھے رُخ پر جسٹن دوم کی تصویر نقش ہے، جو تاج پہنے ہوئے ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک شیلڈ ہے جسے دنیا کی فتح کا نشان بتایا جاتا ہے.....

سکے کے اُلٹے رُخ پر جسٹن دوم تاج پہنے ہوئے ہے اور اُس کے ایک ہاتھ میں شاہی عصا اور دوسرے ہاتھ میں صلیب ہے۔
جسٹن دوم کا چاندی کا دینار سلیقوا کہلاتا تھا، اِس کا وزن 5 گرام اور قطر 12.4 ملی میٹر تھا۔ سیدھے رُخ پر جسٹن دوم تاج پہنے ہوئے ہے اور اُلٹے رُخ پر ایکس کا نشان بنا ہے اور رومن ہندسہ سی یعنی 100 لکھا ہے،

یعنی یہ سکہّ100 نُمی کی مالیت کا ہے۔
جسٹن دوم کے عہد کے کانسی کے سکّے جسے فولس کہا جاتا تھا۔ اِن کا وزن 13.88 گرام ہے اور اس کا قطر 26.2 ملی میٹر ہے۔ سامنے رُخ پر جسٹن دوم اور ملکہ صوفیہ کی تصویر نقش ہے اور دوسرے رُخ پر بڑے حرفوں میں کے لکھا ہے جو آدھے فولس کو ظاہر کرتا ہے۔ بعض سکوں میں ایم لکھا ہے جو ایک فولس فولس کو ظاہر کرتا ہے۔

ساتھ ہی رومی ہندسہ 8 ہے جو حکومت کے آٹھویں سال کی نشاندہی کرتا ہے۔جسٹن دوم کے یہ دینار 578ء یعنی حضور نبی کریمﷺکے دادا حضرت عبد المطلبؓ کے انتقال کے بعد اور چچا ابو طالب کی کفالت میں آنے تک جاری رہے۔


اسی عہد کے دوران فارس میں کسریٰ اوّل یعنی ’’خسرو اوّل‘‘ کی حکومت تھی۔ اس کے عہد میں رائج سکوں کو فارسی میں دریک کہا جاتا تھا جو بگڑ کر دریکم اور دِرَخم بن گیا اور عربوں نے اُسے درہم کے نام سے پکارا۔ درہم سونے، چاندی، کانسی اور تانبے کے بھی ہوتے تھے..... چاندی کے درہموں کو فارس میں کرشہ کہتے تھے۔ (ایرانِ قدیم۔ حسن پیرینا، تاریخِ تمدن ایران ساسانی۔ سعید نفسی، مطبع تہران)
خسرو اوّل کے دور میں سونے کے درہم جو 570ء میں رائج تھے، ان کا وزن 4.05 گرام اور قطر 3.1 ملی میٹر تھا۔ اس کے سامنے کے رُخ پر خسرو اوّل کی تصویر نقش ہے جس میں وہ تاج پہنے ہوئے ہے اور الفاظ خسروی افضوی تحریر تھے۔ جس کے معنی ’’خسرو مبارک ہے‘‘

اور دوسرے رُخ پر آتشکدے کی تصویر ہے جس کے آس پاس دو نگراں کھڑے ہیں اور ساتھ ہی "39" (سکے کے اجراء کا سن) درج ہے، جس سے خسرو کی حکومت کا 39 واں سال مراد ہے
خسرو اوّل کے درہم مختلف سن میں مختلف وزن وقطر کے تھے۔ 570ء میں 4.05 گرام، 571ء میں 3.98 گرام، 574 ء میں 4.02 گرام، 575ء میں 4.01 گرام، 576ء میں 3.86 گرام، 577ء میں 4.07 گرام یعنی یہ سب تقریباً 4 گرام کے تھے اور ان سب کا قطر 3.1 ملی میٹر تھا۔
خسرو اوّل کے دوسرے درہم جو طبری کہلاتے تھے، ان میں 570ء میں 2.34 گرام، 575ء میں 2.46 گرام، 577ء میں 2.79 گرام..... بعض سکے 2.10 سے 2.15 گرام کے درمیان بھی تھے۔ ان تمام سکوں پر خسرو اوّل اور آتشکدے کی تصاویر نقش تھیں.....

خسرو اوّل کے بعد ہرمزد چہارم تخت نشین ہوا اور 590ء تک حکمران رہا..... تعمیرِکعبہ، جنگِ فجار، حلف الفضول کے واقعات اسی دوران رونما ہوئے۔ اس عہد میں حضور نبی کریمﷺ نے گلہ بانی کی اور اپنے چچا ابو طالب کے ہمراہ تجارت کے لئے شام تشریف لے گئے تھے۔

ہرمزد چہارم کے درہم کا وزن 3.45 گرام اور قطر 3 ملی میٹر تھا۔ اس کے ایک رُخ پر ہرمزد چہارم کی تصویر اور دوسرے رُخ پر آتشکدے کا نقش تھا۔ ہرمزد کے بعض سکوں کا وزن 3.45 گرام سے 4.15 گرام تک ہوتا تھا اور طبری سکوں کا وزن 2.50 گرام سے 3 گرام تک تھا.....

روم میں جسٹن دوم کے بعد قیصر تبریس قسطنطین دوم کی تخت نشینی ہوئی-

قیصر تبریس قسطنطین دوم کے جاری کردہ فولس (کانسی کے دینار) کا وزن 12.07 گرام اور قطر 3 سینٹی میٹر تھا۔ اس کے سامنے رُخ پر قیصر تاج پہنے ہوئے ہے اور اس کے ہاتھ میں شاہی عصا ہے جس پر عقاب کی شبیہ بنی ہے۔

یہ دینار 578ء سے 582ء تک جاری رہے۔ یہ وہ دور تھا جب رسول کریمﷺ مکہ کے نواح میں گلہ بانی کا کام سرانجام دیتے تھے۔
ماؤریس تبریس تخت نشین ہونے والا نیا قیصر روم تھا جو 582 سے 602 ء تک یعنی بیس سال حکمران رہا۔ اس کے عہد حکمرانی کے دوران حضور نبی کریمﷺ نے گلہ بانی بھی کی اور اپنے چچا ابو طالبؓ کے ساتھ شام کا سفر کیا اور اسی دور میں حضرت خدیجہؓ کا سامان لے کر تجارت کے لیے شام تشریف لے گئے۔

ماؤریس تبریس کے سونے کے آدھے دینار سیمیس کا وزن 2.142 گرام ہے اور قطر 18.3 ملی میٹر ہے۔ (پورا دینار سولڈیوس تقریباً 4.445 گرام کا ہوتا تھا)دینار کے ایک رُخ پر ماؤریس تبریس موتیوں کا تاج پہنے ہوئے ہے اور دوسرے رُخ پر ایک فرشتہ کی شبیہ ہے جو ایک ہاتھ میں گول مالا یا حلقہ اور دوسرے ہاتھ میں صلیب لئے کھڑا ہے۔

موریس تبریس کے کانسی کے دینار کا وزن 11 گرام اور قطر 3 سینٹی میٹر تھا اور آدھا دینار (ہاف فولس) 5.54 گرام اور 22 ملی میٹر کا تھا۔
بعض دیناروں کا وزن 11.91 گرام تک بھی تھا۔ چاندی کے دیناروں پر نقش تصویروں میں موریس تبریس تاج پہنے ایک ہاتھ میں شیلڈ اور ایک ہاتھ میں صلیب لئے ہوئے ہے۔

موریس تبریس کے بعد تھیوڈوسس کی حکمرانی کا دور آیا مگر اس کے جاری کردہ سکے دریافت نہیں ہوسکے۔

اُدھر فارس میں ہرمزد چہارم کے عہد میں اس کے سپہ سالار بہرام چوبس نے بغاوت کردی اور ہرمزد چہارم کو قتل کرکے تخت پر بیٹھ گیا اور ایک برس تک حکومت کرتا رہا۔ اس کے جاری کردہ سونے کے درہم کا وزن 3.99 گرام سے 4.13 گرام تک تھا اور قطر 31 ملی میٹر.....

اس پر بہرام کی تصویر نقش تھی۔
بہرام کے قتل کے بعد خسروپرویز دوم فارس کا کسریٰ بنا۔ ابتداء میں خسرو نے ہرمزد چہارم کے سالے یعنی اپنے ماموں وستم اور اپنے بھائی ہرمزد پنجم کے ساتھ مشترکہ حکومت کی۔ وستم نے بھی اپنے دورِ حکومت میں سونے کے دینار جاری کئے جس پر اس کی تصویر نقش تھی۔

اس کا وزن پچھلے دیناروں کی طرح تقریباً 4 گرام کے قریب ہی تھا....خسرو دوم 38 برس کے طویل عرصے تک حکومت کرتا رہا۔ اسی کے عہد کی ابتداء میں حضور پاکﷺ نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور حضرت خدیجہؓ کا سامانِ تجارت لے کر شام گئے۔ بیرونِ ملک میں سفرِ تجارت، آغازِ وحی، اعلانِ نبوت اور ہجرت کے واقعات اسی کسریٰ کے عہد میں رونما ہوئے اور یہی وہ کسریٰ تھا جسے رسول اﷲﷺ نے دعوتِ اسلام دینے کے لئے مکتوب گرامی ارسال فرمایا اور اس بدبخت نے اُسے چاک کردیا تھا.....

خسرو دوم کے سونے کا درہم خسرو اول کے درہم سے ملتا جلتا تھا۔ اس کے ایک طرف خسرو دوم تاج پہنے ہوئے ہے جس پر خسروی افضوئی ’’خسرو مبارک ہے‘‘ لکھا تھا اور دوسری طرف ایک آتش کدہ اور اس کے دو نگہبان یا پروہت کی شبیہ نقش تھی۔ اس کے نیچے سکے کے اجرا کا سن لکھا تھا۔
سامنے دیا گیا سکہ خسرو کی حکومت کے بیسویں برس کا ہے جب حضور پاکﷺ تجارت کی غرض سے شام، جرش، یمن وغیرہ تشریف لے گئے۔ اس درہم کا وزن 4.2 گرام اور قطر 31 ملی میٹر ہے۔

رسول اﷲﷺ کی تجارت کے زمانے میں یہی درہم رائج تھے۔ خسرودوم کے درہم سال بہ سال تبدیل ہوتے رہتے۔ ان کا اوسطا وزن 4.12 گرام سے 4.2 گرام تک ہوا کرتا تھا اور قطر 3.1 سینٹی میٹر ہی تھا۔

سن 602 عیسوی میں قیصر فوکاس رومی سلطنت میں تخت نشین ہوا اور آغازِ نبوت یعنی 610ء تک حکمران رہا۔فوکاس کے کانسی کے دینار پر اس کی تصویر ہے جس میں وہ تاج پہنے ہوئے ہے اور پشت پر رومی ہندسے میں اعداد درج ہیں جو اس کی مالیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس کا وزن 11.69 گرام تھا۔
فوکاس کے کانسی کے بعض دینار 2.36 گرام اور 16 ملی میٹر کے ہیں۔

فوکاس کے چاندی کے دینار کا وزن 4.45 گرام اور قطر 21 ملی میٹر تھا۔ جس پر بنے نقش میں وہ تاج پہنے ہوئے ہے اور اُس کے ہاتھ میں صلیب ہے۔

قیصر روم فوکاس کے بعد ہرقل کی تخت نشینی ہوئی۔ ہرقل 641ء تک حکمران رہا..... حضور نبی کریمﷺ کے اعلانِ نبوت سے لے کر آپﷺ کے وصال تک کا دور ہرقل کے عہد حکمرانی میں ہی گزرا تھا۔
ہرقل کے جاری کردہ سونے کے دینار میں ایک دینار کا وزن 4.441 گرام اور قطر 21.4ملیمیٹر تھا۔ اس دینار کے سامنے کے حصّہ پر ہرقل کی تصویر نقش ہے جو تاج اور شاہی لباس پہنے ہوئے ہے اور اُس کے دائیں ہاتھ میں ایک صلیب ہے..... دوسرے رُخ پر چار سیڑھیاں ہیں اوپر ایک صلیب بنی ہوئی ہے۔

حضور نبی کریمﷺ کے سالِ وصال 632ء میں ہرقل کے دینار میں ایک اور تبدیلی لائی گئی اور اس میں ہرقل کے ساتھ ہرقل کے جوان بیٹے ہرقل قسطنطین اور سات سالہ بیٹے ہرقلون کی بھی تصویر نقش کی گئی.....

اس دینار کا وزن 4.41 گرام اور قطر 19.1 ملی میٹر تھا۔ اسی نقش کے بنے ہوئے چاندی کے دینار بھی تھے جن کا وزن 4.47 گرام تھا۔ اس دوران دوسرے دینار بھی رائج تھے۔
ہرقل نے کانسی کے دینار فولس بھی جاری کئے۔ 612ء میں جاری کئے گئے ان دیناروں پر ہرقل اور اُس کے بیٹے ہرقلس قسطنطین کی تصویر نقش تھی۔

ان کا وزن 12.78 گرام اور قطر 31 ملی میٹر ہے۔
بعض سکوں کا وزن 11.10 گرام سے 12.60 گرام تک ہے اور بہت سے کم مالیت کے بھی ہیں۔ مثلاً ایک سکہ جس پر ہرقل اور اس کے بیٹے ہرقلس قسطنطین اور ملکہ مارطینہ کی تصویر نقش ہے اس کا وزن 5.84 گرام ہے۔

بعض کانسی کے دینار 3.05 اور 4.15 گرام وزنی بھی ہیں جن پر ہرقل کی تصویر نقش ہے۔

عام طور پر کانسی کے دینار صرف روم کے ہی چند علاقوں میں رائج تھے ورنہ بین الاقوامی طور پر سونے اور چاندی ہی کے دینار اور درہم رائج تھے.....

613ء کے بعد ہرقل نے چند دینار کے سامنے کے رُخ میں کچھ تبدیلیاں کیں۔ ان میں ہرقل کے ساتھ اس کے بیٹے ہرقلس قسطنطین کی بھی شبیہ دینار پر نقش کی گئی۔ اس دینار کا وزن 4.415 گرام اور قطر 21.3 ملی میٹر تھا۔ یہ دینار 620ء تک جاری رہا یعنی ہجرتِحبشہ ، شعب ابی طالب میں محصوری اور رسول اکرمﷺ کے سفرِطائف کے موقع پر یہی دینار رائج تھا۔


کسریٰ خسرو دوم کو اس کے بیٹے قباد دوم (شیرویہ) نے قتل کردیااور حکمراں بن بیٹھا

قباد دوم بھی زیادہ عرصے حکمران نہ رہ سکا۔ چار سالوں میں 12 حکمران آئے،

اردشیر سوم

خسرو سوم

بوران

آزر مدخت

ہرمزد ششم

خسرو چہارم و پنجم


آخری ساسانی حکمراں یزدگرد سوم نے سلطنت کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ ان تمام ساسانی حکمرانوں کے سکّے درہم کا وزن 3.7 گرام سے 4.2 گرام کے درمیان ہی تھا اور ان کا قطر 3.1 سینٹی میٹر تھا۔

یہ سب درہم حضور کی مدنی زندگی کے آخری چار سالوں کے دوران رائج تھے اور خلفائے راشدین کے عہد میں بھی جاری تھے۔
عموماً عہدِ نبویؐ میں مروّج درہم اور دینار کے وزن میں معمولی سا فرق ہوتا تھا۔ درہم 3.7 سے 4.2 گرام تک کے تھے اور دینار 4.1 سے 4.5 گرام تک وزن کے..... مگر ان کی قدر میں کافی فرق تھا، اس کی وجہ یہ تھی روم کی بازنطینی سلطنت فارس کی ساسانی سلطنت سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھی۔

یہ تمام دینار اور درہم آج بھی کئی ترقی یافتہ غیر مسلم ملکوں کے بہت سے میوزیم میں محفوظ ہیں، جن میں امریکن نیومسمیسٹک سوسائٹی، فیڈرل ریزرو بینک۔ نیویارک، اسٹیٹ ہرمیٹیج میوزیم، سینٹ پیٹرزبرگ۔ روس، فوروم اینسےئنٹ کوئن میوزیم۔ نارتھ کیرولینا، امریکہ، برلن میوزیم اور برٹش میوزیم بھی شامل ہیں۔